تحریر: نفیس آرائیں
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ اپنی روزی روٹی کے لیے کھیتی باڑی اور مویشی پالنے پر انحصار کرتا ہے۔ دیہی معیشت میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے، مگر اکثر ان کی خدمات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زرعی سرگرمیوں میں پولٹری فارمنگ دیہی خواتین اور لڑکیوں کے لیے آمدنی حاصل کرنے کا ایک آسان، کم خرچ اور مؤثر ذریعہ ہے۔
دیہی پاکستان میں زراعت میں خواتین کا کردار
دیہی خواتین کھیتی باڑی اور مویشی پالنے سے متعلق مختلف سرگرمیوں میں سرگرم حصہ لیتی ہیں۔ وہ جانوروں کو چارہ ڈالنے، گھریلو پولٹری کی دیکھ بھال، انڈے جمع کرنے اور چوزوں کی پرورش جیسے اہم فرائض انجام دیتی ہیں۔ اگرچہ ان کی خدمات نہایت قیمتی ہیں، لیکن اکثر انہیں نہ تو معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی ان کی محنت کو مناسب اہمیت دی جاتی ہے۔
دیہی پولٹری فارمنگ: ایک عملی موقع
دیہی پولٹری فارمنگ میں عموماً مقامی نسل کی مرغیاں گھروں میں پالی جاتی ہیں۔ ان کی پرورش کے لیے کم سرمایہ درکار ہوتا ہے اور یہ مقامی موسمی حالات سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ اس کے ذریعے خاندان کو انڈے اور گوشت میسر آتا ہے جبکہ اضافی پیداوار فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
پولٹری فارمنگ میں دیہی خواتین اور لڑکیوں کا کردار
دیہی خواتین پولٹری کی دیکھ بھال میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ آسانی سے انجام دی جا سکتی ہیں، جس سے خواتین گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولٹری فارمنگ خواتین میں خود اعتمادی، مالی شعور اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بھی فروغ دیتی ہے۔
غذائی اور معاشی فوائد
انڈے اعلیٰ معیار کی پروٹین اور ضروری غذائی اجزاء کا بہترین ذریعہ ہیں۔ گھریلو سطح پر پولٹری فارمنگ نہ صرف خاندان کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ خصوصاً محدود روزگار کے مواقع رکھنے والی خواتین کے لیے اضافی آمدنی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
بیوپاریوں (مڈل مین) کا دیہی خواتین کی آمدنی پر اثر
دیہی پاکستان میں خواتین اکثر اپنے پولٹری سے حاصل ہونے والی مصنوعات مقامی منڈیوں یا بیوپاریوں کے ذریعے فروخت کرتی ہیں۔ اگرچہ بیوپاری خریداروں تک رسائی فراہم کرتے ہیں، لیکن وہ اکثر مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت ادا کرتے ہیں، جس سے خواتین کی حقیقی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی دیہی خاتون روزانہ 20 انڈے بیوپاری کو فروخت کرے تو اسے تقریباً 80 سے 100 روپے حاصل ہوتے ہیں، جبکہ یہی انڈے براہِ راست صارفین کو فروخت کرنے پر 150 سے 200 روپے تک آمدنی دے سکتے ہیں۔
اس چیلنج کے باوجود خواتین پولٹری فارمنگ جاری رکھتی ہیں کیونکہ اس میں کم سرمایہ درکار ہوتا ہے اور کم منافع بھی گھریلو اخراجات میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آگاہی پروگرام، خواتین کی کوآپریٹو سوسائٹیز اور مقامی تنظیمیں انہیں بہتر قیمت دلانے اور بیوپاریوں پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
چیلنجز اور مستقبل کی راہ
پولٹری فارمنگ کو بیماریوں کے پھیلاؤ، تربیت کی کمی اور منڈیوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے تربیتی پروگرام، ویٹرنری سہولیات اور خواتین پر مشتمل زرعی ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔
نتیجہ
پولٹری فارمنگ پاکستان کی دیہی خواتین کو معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانے کا ایک مؤثر اور پائیدار ذریعہ ہے۔ اگر مناسب تربیت، حکومتی سرپرستی اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو یہ شعبہ خواتین کی آمدنی، خاندانی غذائیت اور دیہی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
حوالہ جات
پاکستان اکنامک سروے
ایف اے او (FAO) – پاکستان میں پولٹری سیکٹر
محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ، پاکستان


