اسلام آباد:پاکستان میں فری لانسنگ کے شعبے نے تاریخ ساز کامیابی حاصل کرتے ہوئے گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران 3.2 ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ کمایا ہے، جو کہ ملک کی نازک معیشت کے لیے ایک بڑی امید کی کرن ہے۔ انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ جیسے مستقل چیلنجز کے باوجود پاکستانی نوجوانوں نے ڈیجیٹل مارکیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔
سرکاری اور اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، فری لانس برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن مالی سال 2023-24 کے 505 ملین ڈالر سے چھلانگ لگا کر مالی سال 2024-25 میں 984 ملین ڈالر تک پہنچی، اور اب مالی سال 2025-26 کے دوران یہ ریکارڈ 1.76 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اس سال مجموعی طور پر 78 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں آئی ٹی فری لانسرز نے 1.16 ارب ڈالر سے زائد کی آمدن حاصل کی، جبکہ نان آئی ٹی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 205 ملین ڈالر سے بڑھ کر 592 ملین ڈالر (188 فیصد اضافہ) ہو گئی ہے۔ اس زبردست کارکردگی کے بعد پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ افرادی قوت رکھنے والا ملک بن گیا ہے، جہاں تقریباً 30 لاکھ کل وقتی اور جزوقتی فری لانسرز کام کر رہے ہیں۔
پاکستانی فری لانسرز کا شاندار کارنامہ؛ تین سال میں کتنے ارب ڈالر کمائے؟

