سیالکوٹ۔سلیم احمد اعوان شیخو
برصغیر پاک و ہند تقسیم کی خاموش گواہ دو دکانیں یہ دو دکانیں ضلع سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کے ایک گاؤں میں واقع ہیں۔ تقسیمِ سے قبل یہ دکانیں ہندو کھتری خاندان کی ملکیت تھیں۔1947ء میں جب ہجرت کا وقت آیا تو ان دکانوں پر تالے لگا دئیے گئے۔معلوم ہوا ہے کہ جاتے ہوئے ہندو کھتری اپنی دکانوں کی چابیاں بھی ساتھ لے گئے اور کہہ گئے کہ حالات بہتر ہوتے ہی واپس آئیں گے پھر اپنے ہاتھوں سے یہ تالے کھولیں گے۔لیکن وہ دن کبھی نہ آیا۔بعد ازاں ہجرت کر کے پاکستان آنے والی میواتی برادری کے چند خاندانوں کو یہ دکانیں اور ان سے ملحقہ مکانات الاٹ کر دئیے گئے لیکن وقت کے ساتھ ان گھروں کی کئی بار ازسرِ نو تعمیر ہوئی نسلیں بدل گئیں مگر یہ دونوں دکانیں آج بھی ویران کھڑی ہیں۔ہتہ چلا ہے کہ ان دکانوں کے پرانے تالے توڑ کر نئے تالے بھی لگائے گئے تھے مگر جنہیں یہ دکانیں الاٹ ہوئیں وہ بھی کبھی انہیں مستقل طور پر استعمال نہ کر سکے بلکہ گاؤں کے بزرگوں کے مطابق یہ دکانیں اور ان کے ساتھ موجود اونچا چوبارہ ایک پراسرار خاموشی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ان بزرگوں کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی نے انہیں آباد کرنے کی کوشش کی کوئی نہ کوئی ایسی رکاوٹ آ گئی کہ وہ خود ہی پیچھے ہٹ گیا۔
تقریباً ایک صدی گزرنے کو ہے مگر یہ دو دکانیں آج بھی تقسیمِ ہند کی ایک ادھوری کہانی ہے لیکن ہندو کھتری کی نامممکن واپسی اور گزرے ہوئے وقت کی خاموش گواہ دکانیں بن کر اسی طرح بند اور ویران کھڑی ہیں۔

