برسلز:یورپی یونین نے آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم ‘علی ایکسپریس’ (AliExpress) پر غیر قانونی سامان، نقصان دہ کپڑوں، کاسمیٹکس اور کچن کے خطرناک آلات کی فروخت روکنے میں ناکامی پر ریکارڈ 550 ملین یورو (تقریباً 470 ملین برطانوی پاؤنڈ) کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت صارفین کو غیر قانونی اشیا سے بچانے کے لیے کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا یہ اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔
یورپی کمیشن کی ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ہینا ویرکونین نے کہا ہے کہ جعلی کپڑے، غیر محفوظ کھلونے اور خطرناک کاسمیٹکس جیسی مضر اشیا کا پھیلاؤ آن لائن خریداری کی کوئی ناگزیر قیمت نہیں ہے، بلکہ یہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں علی ایکسپریس کی کھلم کھلا ناکامی ہے۔ کمیشن کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پلیٹ فارم کے پاس مصنوعات کی قانونیت جانچنے کے لیے ناکافی عملہ موجود تھا، اور بعض اوقات عملے کو محض "چند سیکنڈ” کے اندر یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہا جاتا تھا کہ آیا کوئی پروڈکٹ یورپی یونین کے معیار پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔
کمیشن کے مطابق کئی غیر قانونی اور جعلی اشیا علی ایکسپریس کے اپنے سفارشی نظام (recommendation systems) کے ذریعے فروغ پا رہی تھیں، اور اگر ایسی اشیا کی نشاندہی ہو بھی جاتی تھی تو وہ کئی ہفتوں تک آن لائن موجود رہتی تھیں۔
دوسری جانب، علی ایکسپریس نے اس فیصلے کو "غیر مناسب” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جرمانہ ان کے قائم کردہ فریم ورک اور ان کی جانب سے کیے جانے والے فعال اور اہم اقدامات کی عکاسی نہیں کرتا، اس لیے وہ اس فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل دائر کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت ‘ٹیمو’ (Temu) کو 200 ملین یورو اور ‘ایکس’ (X) کو 120 ملین یورو جرمانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ یورپی یونین کی جانب سے دیگر بڑی ریٹیل سائیٹس مثلاً ‘شین’ (Shein) کے نمونوں کی جانچ میں بھی بڑی تعداد میں اشیا غیر معیاری پائی گئی تھیں۔
جعلی ،غیر قانونی اشیا فروخت کرنے پر علی ایکسپریس پر ریکارڈ 550 ملین یورو کا جرمانہ

