سیالکوٹ ( سلیم احمد اعوان شیخو )
سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کا انعقاد وادی میں جمہوری عمل کے تسلسل، عوامی نمائندگی اور کشمیری عوام کے سیاسی تشخص کی علامت ہے جبکہ کشمیری عوام کو اپنے نمائندے آزادانہ طور پر منتخب کرنے کا حق حاصل ہے اور تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ انتخابی عمل کو پر امن، شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر فردوس نے الزام عائد کیا کہ راولا کوٹ میں دھرنے کی آڑ میں سرگرم بعض غیر سیاسی عناصر کشمیری عوام کو ان کے جمہوری حق اور حقِ خودارادیت کی منزل سے دور دھکیل رہے ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ایسے عناصر کی حمایت عام کشمیری ووٹرز کے مفادات کے منافی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے، لیکن ایسے اقدامات جو انتخابی عمل میں رکاوٹ یا بدامنی کا باعث بنیں، ان سے گریز کیا جانا چاہئیے اور تمام فریقین کو مذاکرات اور جمہوری ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئیےنے ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مہنگائی سے پریشان عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انہیں مزید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے حکمران جماعت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام دیکھائ دے رہی ہے، پنجاب حکومت کی ترجیحات عوامی مسائل کے حل کے بجائے دیگر معاملات پر مرکوز نظر آتی ہیں، جبکہ عوام کو درپیش مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے مسائل بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض قومی معاملات پر حکمران جماعت کی طویل خاموشی اور واضح مؤقف اختیار نہ کرنا بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے حالیہ بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی، ریاستی اداروں اور شہداء کی قربانیوں کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو قومی مفاد کے خلاف ہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وطن پاکستان کے دفاع کے لئے پاک فوج نے دہائیوں سے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، اس لیے شہداء یا قومی سلامتی کے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ دفاعِ وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے ہیروز ہیں اور ان کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر قومی سلامتی ریاستی اداروں اور شہداء کے احترام کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہئیے۔انھوں نے بانی پاکستان تحریک عمران خان کے خاندان کی جانب سے بھارت اور بھارتی قیادت سے متعلق سامنے آنے والے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات قومی جذبات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل وقت میں ملک کا دفاع کیا ہے اور عالمی سطح پر بھی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے قومی دفاع کو مزید مضبوط بنایا ہے اور پاکستان کی عسکری قیادت کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کے معاملات پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسے بیانات سے اجتناب کرنا چاہئیے جن سے ملک دشمن عناصر کو فائدہ پہنچنے کا تاثر پیدا ہو۔

