اسلام آباد(بے نقاب رپورٹ)
کیا آپ کی گاڑی کا انجن بار بار خراب ہو رہا ہے؟ کیا اچانک مائلیج کم ہو گئی ہے یا لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود مسئلہ ختم نہیں ہو رہا؟ تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جیسے پاکستان میں مختلف مافیا آپکو لوٹ رہے ہیں اسی طرح پٹرولیم مافیا ناصرف ملاوٹ والے پٹرول سے جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے بلکہ آپکی گاڑیوں کے انجن بھی تباہ کر رہا ہے اس میں بہت سے متعلقہ افسران کی ملی بھگت بھی ہو سکتی ہے ۔ آئیں آپکو ایک سرکاری رپورٹ میں اس مافیا کے کارناموں کی حقیقت بتاتے ہیں پیٹرولیم بحران انکوائری کمیشن کی رپورٹ نے ایسے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے ملک بھر کے کروڑوں گاڑی مالکان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فروخت ہونے والے پٹرول اور ڈیزل میں بڑے پیمانے پر ملاوٹ، اسمگل شدہ ایندھن کی فروخت اور ناقص نگرانی نے نہ صرف عوام کو اربوں روپے کا مالی نقصان پہنچایا بلکہ ہزاروں گاڑیوں کے انجن بھی خطرے میں ڈال دیے۔
رپورٹ کے مطابق پٹرول میں مینگنیز، نیفتھا اور دیگر کیمیکلز جبکہ ڈیزل میں مٹی کا تیل، لائٹ ڈیزل آئل اور وائٹ اسپرٹ کی ملاوٹ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے ایندھن کے مسلسل استعمال سے انجن، فیول پمپ، انجیکٹرز اور دیگر حساس پرزے وقت سے پہلے ناکارہ ہو سکتے ہیں، جس کا خمیازہ براہِ راست عام شہری اپنی جیب سے بھگتاتا ہے۔
مزید حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ سرکاری ادارہ ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (HDIP) زیادہ تر رسمی اور محدود نمونوں کی جانچ تک محدود رہا، جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے ایندھن کی مؤثر اور لازمی ٹیسٹنگ کا نظام موجود نہیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ جب تک درآمدی اور مقامی طور پر تیار ہونے والے ہر بیچ کی جدید لیبارٹریوں میں لازمی جانچ نہیں ہوگی، ملاوٹ پر قابو پانا ممکن نہیں۔ رپورٹ نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ اگر ملک میں جدید فیول ٹیسٹنگ سہولیات قائم کی جا چکی ہیں تو پھر ملاوٹ شدہ اور مشتبہ پٹرول کھلے عام پمپوں تک کیسے پہنچ رہا ہے؟ اگر نگرانی مؤثر ہے تو عوام کو خراب ایندھن کیوں مل رہا ہے؟ اور اگر نگرانی مؤثر نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
کمیشن نے حکومت کو سخت سفارشات دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں فیول مارکنگ کا جدید نظام نافذ کیا جائے، ہر درآمدی اور مقامی پٹرولیم مصنوعات کی سو فیصد لازمی ٹیسٹنگ کی جائے اور اسمگل شدہ و ملاوٹ شدہ ایندھن کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح ہوا کہ جعلی اور ملاوٹ شدہ پٹرول و ڈیزل کے کاروبار کے خلاف کارروائیوں کا کوئی جامع قومی ریکارڈ یا مؤثر نظام سامنے نہیں آیا، جس سے یہ سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ آخر وہ مافیا کون ہے جو عوام کی گاڑیوں، ماحول اور قومی معیشت کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے، اور اس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کب ہوگی۔
پیٹرولیم انکوائری کمیشن کی یہ رپورٹ صرف ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ ایک سنگین وارننگ ہے کہ اگر نگرانی، ٹیسٹنگ اور قانون پر عملدرآمد کو فوری طور پر مؤثر نہ بنایا گیا تو عوام کا مالی نقصان، گاڑیوں کے انجنوں کی تباہی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان بدستور جاری رہ سکتا ہے۔
گاڑی کا انجن بار بار خراب ہو رہا ہے؟ تو اس کے پیچھے ‘پیٹرولیم مافیا’ کا خطرناک کھیل ہے!چشم کشا رپورٹ

