نیویارک:ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا ردوبدل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایپل (Apple) نے انویڈیا (Nvidia) کو شکست دے کر ایک بار پھر دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا تاج اپنے سر سجا لیا ہے۔ جمعہ کے روز ایپل کی مارکیٹ ویلیو 4.88 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ انویڈیا کے حصص میں 3.5 فیصد کمی کے بعد اس کی قدر 4.86 ٹریلین ڈالر رہ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب صرف انویڈیا جیسے ‘اے آئی بوم’ کے براہِ راست فائدہ اٹھانے والوں سے ہٹ کر اپنی توجہ وسیع کر رہے ہیں۔ ایک وقت میں ایپل کو اے آئی کی دوڑ میں "سست رو” سمجھا جا رہا تھا کیونکہ کمپنی ماڈلز کی تیاری پر زیادہ اخراجات نہیں کر رہی تھی، لیکن اب مارکیٹ کا مزاج بدل چکا ہے۔
سرمایہ کاری ماہرین کے مطابق، ایپل کی حکمتِ عملی اب ہارڈویئر اپ گریڈز، سروسز اور اپنے مضبوط ایکو سسٹم کے ذریعے اے آئی سے پیسہ کمانے پر مرکوز ہے، جس پر سرمایہ کاروں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ایپل کے لیے یہ سنگِ میل اس وقت آیا ہے جب کمپنی کے سی ای او ٹم کک اپنے عہدے کے آخری مہینوں میں ہیں۔ ستمبر میں وہ ہارڈویئر کے ماہر جان ٹرنس (John Ternus) کو اپنا جانشین نامزد کریں گے۔ حالیہ مہینوں میں ایپل نے اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ ‘سری’ (Siri) کو جدید بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد اے آئی کی دوڑ میں بڑی ٹیک کمپنیوں اور نئے اسٹارٹ اپس کے فرق کو کم کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آئی فونز میں موجود صارفین کا ذاتی ڈیٹا ایپل کے لیے ایک "اے آئی گولڈ مائن” ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ پرائیویسی کے تحفظ کے ساتھ اس کا درست استعمال کر سکے۔
انویڈیا، جو گزشتہ ایک سال سے سرفہرست تھی، اب بھی عالمی سطح پر اے آئی انفراسٹرکچر کا ایک اہم ستون ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کے ساتھ انویڈیا دوبارہ سرفہرست آ سکتی ہے۔ دریں اثنا، اے آئی کا جوش و خروش سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے دیگر شعبوں تک بھی پھیل گیا ہے، جس میں مائیکرون (Micron) اور ایس کے ہائنکس (SK Hynix) جیسی میموری چپ بنانے والی کمپنیاں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔
اے آئی کے میدان میں بازی پلٹ گئی: ایپل کی واپسی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کون؟

