تحریر محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کیا آپ نے غور کیا ہے کہ امریکہ اب ایران پر پہلے سے زیادہ حملے کر رہا ہے، اس کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے،
مگر مین اسٹریم عالمی میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، امریکہ۔ ایران جنگ کی خبروں سے اسرائیل کا ذکر دودھ سے مکھی کی طرح غائب ہو چکا ہے۔ دوسری جانب قطر، بطور ثالث، اس جنگ سے پیچھے ہٹ چکا ہے اور عالمی دنیا اس تمام صورتحال پر تقریباً خاموش ہے۔
پہلے بھی کہا تھا کہ امن معاہدے کے 60 دن پورے کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا، کیونکہ اسرائیل کی طاقتور لابی امن کے ہر عمل کی مکمل مخالفت میں کھڑی ہے، جبکہ دوسری جانب کوئی مضبوط مرکزی قیادت نہ ہونے کی وجہ سے ایران فیصلہ سازی کے سنگین بحران کا شکار ہے۔ اگر حالیہ کشیدگی کی بات کریں تو اس کا آغاز اُس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین مختلف ممالک کے تیل بردار جہازوں پر ایران کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ ان جہازوں میں سے ایک سعودی عرب کا پرچم بردار جہاز بھی شامل تھا۔
ان حملوں کے بعد سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک نے سخت الفاظ میں ایران کی مذمت کی، اور اسی رات امریکہ نے بھی ایران پر فضائی حملہ کر دیا۔ بہرحال، اگلے ہی روز مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کا اعلان ہوا، مگر امن معاہدے کے ایک اہم نکتے پر شدید ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے۔ اس 14 نکاتی معاہدے کی شق نمبر 5 یہ تھی کہ خلیج فارس سے لے کر بحرِ عمان تک ایران تمام کمرشل کنٹینرز اور بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنائے گا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ اسی راستے میں ایران کی جانب سے نیول مائنز (بحری بارودی سرنگیں) بچھائی گئی تھیں، جبکہ اسی راستے پر ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔ لہٰذا بارودی سرنگوں کا صفایا کرنا اور مستقبل میں ڈرون حملے نہ ہونے دینا ایران کی ذمہ داری تھی۔ 60 روز تک ایران نے اس کی ضمانت دینی تھی، جس کے بعد ایران اور عمان مشترکہ طور پر اس آبی گزرگاہ کے لیے نئی حکمتِ عملی ترتیب دینے والے تھے۔
مگر یہاں معاملہ کچھ یوں ہوا کہ اس امن معاہدے سے قبل پاسدارانِ انقلاب یہ قانون منظور کروا چکے تھے کہ یہ اب ایران کا علاقہ ہے اور یہاں صرف ایران کی مرضی چلے گی، اور کوئی بھی تیل بردار جہاز ایران کی اجازت کے بغیر یہاں سے نہیں گزر سکے گا۔ اس قانون کی منظوری کے بعد خلیجی ممالک نے سخت ردِعمل دیا تھا کہ آبنائے ہرمز ہماری معاشی شہ رگ ہے اور اس پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری قبول نہیں کی جائے گی۔
یہی وجہ تھی کہ امن معاہدے میں قطر ثالث بن کر سامنے آیا تاکہ آبنائے ہرمز اور عرب ریاستوں کے مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے، اور اسی لیے معاہدے میں یہ شق شامل کی گئی کہ اس آبی گزرگاہ کو پُرامن رکھنا ایران کی ذمہ داری ہوگی۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ امن معاہدہ اگرچہ ختم نہیں ہوا، مگر اس کے چیتھڑے ضرور اڑ چکے ہیں۔
خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملے جاری ہیں، سعودی عرب پر حوثی (جنہیں ایرانی پراکسی سمجھا جاتا ہے) حملے کر رہے ہیں، قطر نے ایران کے معاملات سے ہاتھ کھینچ لیا ہے، جبکہ پاکستان خود انتہاپسندوں اور نسل پرست دہشت گردوں کے منظم حملوں میں الجھا ہوا ہے۔ سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک ایران سے مایوس ہو چکے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے اندر موجود مخصوص عناصر اپنی ہی سیاسی قیادت کو بے اثر کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
حزب اللہ، حماس اور پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ قیادتوں کو بڑی حد تک ختم کیا جا چکا ہے، لبنان بھی بڑی حد تک اسرائیلی اثر و رسوخ میں آ چکا ہے، جبکہ اسرائیل ایک کونے میں کھڑا یہ تمام منظر دیکھتا ہوا قہقہے لگا رہا ھے۔۔


