سکھر ڈویزنل بیوروچیف نصیر احمد لاشاری کی خصوصی رپورٹ
سکھر خیرپور کے علاقہ پریالو فیض واہ کے رہائشی، ایک ہی گاؤں کے ڈونگرانی بلوچ برادری سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون گلناز ڈونگرانی نے اہنے ھی علاقے کے رہائشی نوجوان جنید علی ڈونگرانی کے ساتھ خیرپور کی عدالت میں پسند کی شادی کر لی ہےاس کے بعد پریمی جوڑے نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، جس پر لڑکی کے رشتہ دار اور اس کا سابق شوہر غصے میں آ گئے ہیں اور وہ جھوٹے کیسز درج کروانے، قتل اور سنگین مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دے رہے ہیںخاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سابق شوہر شاہزیب سے 6 ماہ قبل قانونی طریقے سے طلاق لے چکی ہیں، ابھی اس وقت سابق شوہر شاہزیب اور رشتہ دار ولی محمد، فیض محمد، طارق، عبید اللہ، شرافت اور دیگر ‘سیاح کاری’ کے الزام کے نیچے قتل کرنا چاہتے ہیں۔جوڑے نے فریاد کرتے ہوئے بتایا کہ رشتہ داروں کے دباؤ اور جان لیوا دھمکیوں کی وجہ سے جینا محال ہو گیا ہے اور اس وقت وہ دربدر کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی رضامندی سے، بغیر کسی زبردستی کے پسند کی شادی کی ہے، جس پر رشتہ دار غصے میں ہیں اور انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔پریمی جوڑے نے ایس ایس پی خیرپور اور ڈی آئی جی سکھر سے نوٹس لیتے ہوئے بااثر رشتہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کر کے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

