امریکا نے منگل کی صبح ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ کے مطابق یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’واشنگٹن آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہا ہے۔‘
ایران نے جواب میں بحرین اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکروں پر حملے کیے، جن میں عملے کا ایک بھارتی شخص ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کی کارروائی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکا دونوں آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں، جہاں سے پر امن حالات میں قدرتی گیس اور دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ان واقعات کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور قیمت فی بیرل قیمت 81.92 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ’امریکی افواج نے 13 جولائی کی رات ایران کے خلاف حملوں کا تازہ مرحلہ مکمل کر لیا۔ تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والی اس کارروائی میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس سمیت مختلف مقامات پر ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘
سینٹ کام کے مطابق ’ان حملوں کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔ کارروائی کے دوران ایرانی ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات کے علاوہ بحری فوجی صلاحیتوں کو انتہائی درست ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان کے مطابق ’اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور امریکی افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز میں موجود دو سپر آئل ٹینکروں مومباسا اور البحیہ پر دو کروز میزائل داغے۔ حملوں کے نتیجے میں دونوں ٹینکروں میں آگ لگ گئی، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔‘
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان جہازوں نے ’بار بار وارننگ کے باوجود راستہ اختیار کیا تھا۔‘
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان جہازوں نے بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزرنے کا انتخاب کیا، جس کے بعد انہیں نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔‘
دوسری جانب بحرین پر بھی منگل کی صبح ایران نے میزائل حملے کیے ہیں۔ بحرینی حکام نے فوری طور پر میزائل الرٹ سائرن بجائے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی، تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
امریکی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج 14 جولائی کو گرینچ ٹائم کے مطابق ٹھیک 20:00 بجے ایران کی تمام بندرگاہوں اور ایرانی ساحلی علاقوں کی بحری ناکہ بندی شروع کر دے گی۔
امریکی بحریہ نے کہا کہ ناکہ بندی مکمل ہے جس میں ایرانی ساحل بشمول ایرانی بندرگاہیں اور آئل ٹرمینلز شامل ہیں، لیکن یہ ان تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ ناکہ بندی آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر ایرانی مقامات کے لیے اور وہاں سے آنے والے غیر جانبدار جہازوں کے گزرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو رواں ماہ 10 جولائی کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے سے آگاہ کیا ہے۔
10 جولائی کو امریکی صدر نے سینیٹر چک گراسلی کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے بتایا کہ فوجی سرگرمیاں 7 جولائی سے دوبارہ شروع ہوئی ہیں۔
خط میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ حملے دفاعی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد ’امریکی شہریوں اور امریکا کے ملکی و غیرملکی مفادات کا تحفظ‘ کرنا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کارروائیاں ’محدود، متوازن اور پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہیں، اور انھیں اس انداز میں انجام دیا گیا ہے کہ شہری جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔‘
ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’میں یہ رپورٹ کانگریس کو مکمل طور پر آگاہ رکھنے کی اپنی کوششوں کے تحت پیش کر رہا ہوں، جیسا کہ وار پاورز ریزولوشن کے مطابق ضروری ہے۔‘
اس قرارداد کے تحت صدر پر لازم ہے کہ کسی فوجی حملے کے آغاز کے 48 گھنٹوں کے اندر قانون سازوں کو اس بارے میں آگاہ کریں۔
پاسداران انقلاب نے منگل کی صبح امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں الجفیر بیس پر سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی افواج کی رہائش گاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔
اردن کی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل مار گرائے ہیں۔
منگل کی صبح پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں 24 گھنٹوں میں ہونے والے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں موجود امریکی اڈے الجفیر کے سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی افواج کی رہائش گاہ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکا کے مسلسل تیسری رات بھی ایران پر حملے، جوابی کارروائی میں امارات کے سپر ٹینکر تباہ،بحرین پر میزائل، ڈرونز حملے

