اسلام آباد :وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ میزائل حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے مملکت کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی براہِ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں اور پاکستان اس مشکل وقت میں سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
Pakistan strongly condemns the blatant attacks carried out against the brotherly Kingdom of Saudi Arabia last night.
Such reprehensible actions constitute a violation of the sovereignty and territorial integrity of the Kingdom of Saudi Arabia and have the potential to further…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) July 14, 2026
سعودی عرب پر یہ حملہ یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چار سال سے جاری غیر رسمی جنگ بندی ٹوٹ چکی ہے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی شہر ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں سعودی فوجی اتحاد نے ان میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ یہ حملہ مارچ 2022 کے بعد سعودی سرزمین پر حوثیوں کی جانب سے قبول کی جانے والی پہلی بڑی کارروائی ہے۔
دریں اثنا، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے ڈپٹی مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد یمن کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے دفاتر پر قبضے اور سفارتی عملے کی حراست کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
Statement by Ambassador Usman Jadoon,
Deputy Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the UN Security Council Emergency Briefing on the Situation in Middle East (Yemen)
(13 July 2026)
****We thank ASG Khaled Khiari and acting ASG Indrika Ratwatte for their… pic.twitter.com/AzYbr4Vr01
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 14, 2026
پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحرانوں کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں پائیدار امن صرف ایک ایسے سیاسی عمل سے ہی ممکن ہے جس کی قیادت خود یمنی عوام کریں اور اقوامِ متحدہ اس کی سہولت کاری کرے۔ انہوں نے قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "مذاکرات مشکل حالات میں بھی ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں۔”
پاکستان نے یمن میں جاری برسوں کے تنازع کے نتیجے میں ہونے والی نقل مکانی، معاشی مشکلات اور غذائی عدم تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفیر عثمان جدون نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی سے عام شہریوں کی تکالیف میں اضافہ ہوگا اور امن کے قیام کے تمام امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ پاکستان نے خطے میں قیامِ امن کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

