واشنگٹن:امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک فیصلہ کن موڑ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پانے والے عبوری معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب امریکا آبنائے ہرمز کا کنٹرول خود سنبھالے گا۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ، "کل 11 گھنٹے طویل مذاکرات میں ہر نکتے پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن جیسے ہی ایرانی وفد کمرے سے باہر نکلا، انہوں نے دوبارہ رابطہ کر کے معاہدے میں تبدیلیوں کا مطالبہ کر دیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ایران نے معاہدہ توڑ دیا ہے، اب ان کے پاس کچھ نہیں بچا۔ اب ہم آبنائے ہرمز کی حفاظت خود کریں گے اور اس کی سکیورٹی فیس بھی ہم وصول کریں گے۔”
🇺🇸🤡🇮🇷 Resident Trump: ‘We will become guardians of the Strait of Hormuz and impose tolls’ pic.twitter.com/jXJmbvi2Hm
— Hawkeye1812Z (@Hawkeye1745) July 13, 2026
سیاسی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں فوجی تصادم ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جس طرح کے سخت الفاظ ٹرمپ نے استعمال کیے ہیں، اس سے واضح ہے کہ امریکا اب سفارت کاری کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ایران کے خلاف آج مزید شدید فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک اس نئی صورتحال پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول تبدیل ہونا پوری دنیا کے لیے توانائی کے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

