ریاض+لندن:مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے اثرات اب عالمی معیشت پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل کو درپیش شدید خطرات کے باعث پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کا تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کاروباری ہفتے کے آغاز پر خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اچھال دیکھنے میں آیا:
برینٹ خام تیل: 3.10 ڈالر کے اضافے کے بعد قیمت 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): 2.95 ڈالر کے اضافے کے بعد قیمت 74.36 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
آبنائے ہرمز دنیا بھر میں توانائی کی فراہمی کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) گزرتی ہے۔ جہاز رانی پر نظر رکھنے والی کمپنی ‘کپلر’ کے اعداد و شمار کے مطابق، اتوار کے روز اس راستے سے صرف 6 جہاز گزر سکے، جو گزشتہ پانچ ہفتوں میں ٹریفک کی کم ترین سطح ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے عالمی توانائی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جنگ بندی کے لیے طے پانے والا عبوری معاہدہ اب خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر نئے فوجی حملوں کے اعلانات نے اس معاہدے کے مستقبل پر گہرے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان یہ فوجی کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مہنگائی کی صورت میں پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

