شہدادپور:بیوروچیف
شوہر اور سسر کے مبینہ تشدد سے تنگ خاتون کا عدالت کے ذریعے طلاق لینے کا اعلان، انصاف و تحفظ کی اپیل
شہدادپور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شریمتی سگھی کچھی کولہی نے الزام عائد کیا ہے کہ شادی کے بعد سے ان کے شوہر نانجی کچھی کولہی اور سسر کی جانب سے انہیں مسلسل تشدد اور ناروا سلوک کا سامنا رہا، جس کے باعث وہ دو سال قبل شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنی بیوہ والدہ کے گھر رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی پانچ سال قبل نانجی کچھی کولہی سے ہوئی تھی، تاہم ازدواجی زندگی کے دوران مبینہ طور پر انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت دی جاتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ شوہر نشے کی حالت میں بلاجواز تشدد کرتا تھا، جس کے باعث ساتھ رہنا ناممکن ہوگیا۔سگھی کچھی کولہی نے مزید کہا کہ شادی کو پانچ سال گزر چکے ہیں لیکن ان کی کوئی اولاد نہیں ہے، جبکہ وہ گزشتہ دو برس سے اپنی والدہ کے گھر مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے عدالت کے ذریعے طلاق حاصل کرنا چاہتی ہیں تاکہ اپنی زندگی باعزت اور پُرامن انداز میں گزار سکیں۔انہوں نے حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنے قانونی حقوق حاصل کر سکیں

