مشہد/تہران:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ ان کی آخری رسومات کے ساتھ ہی چار جولائی سے جاری تین روزہ ریاستی سوگ کا اختتام ہو گیا۔ ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو تہران، قم اور دیگر بڑے شہروں سے گزارا گیا جہاں لاکھوں سوگواروں نے اپنے قائد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تدفین کے موقع پر مشہد میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔ سوگواروں نے سرخ جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نتن یاہو کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ جنازے کے دوران "مرگ بر امریکہ” اور "مرگ بر اسرائیل” کے نعرے گونجتے رہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور ممکنہ جانشین آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات اور صحت کی وجوہات کے باعث عوامی مقامات پر دکھائی نہیں دیے، تاہم انہوں نے ایک تحریری پیغام کے ذریعے قوم کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو ایران پر ہونے والے ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملے کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان کے متعدد افراد سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے ایران میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، اور جنازے میں شریک افراد نے اپنے قائد کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد ایران کی قیادت سنبھالی تھی۔ اپنے طویل دورِ اقتدار میں انہوں نے مغرب کے خلاف مزاحمت کی پالیسی اپنائی، ملک کے جوہری پروگرام کو مستحکم کیا اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ انہوں نے ایران کے اندر سخت گیر علماء کی حکمرانی کو مستحکم کیا اور پاسدارانِ انقلاب کو سیاسی و عسکری اعتبار سے بے پناہ طاقت عطا کی۔
ان کی موت کے بعد، ایران ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں مستقبل کے چیلنجز اور عالمی طاقتوں کے ساتھ کشیدگی کے سائے مزید گہرے ہو رہے ہیں۔
نمازِ جنازہ بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی :امریکی میزائل حملوں کی گونج میں آیت اللہ علی خامنہ ای مشہد میں سپردِ خاک

