کراچی: معروف عالمِ دین مفتی تقی عثمانی کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے اہم شرعی فتویٰ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کو شرعاً ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اس فتویٰ نے ملک میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے حلقوں اور قانونی ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فتویٰ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی اسلامی اصولوں کے تحت نہ تو "مال” ہے اور نہ ہی اسے "قابلِ ملکیت اثاثہ” تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کا موقف ہے کہ کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کا صرف الیکٹرانک شکل میں موجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اسے شرعی اعتبار سے مال قرار دیا جائے۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا کرپٹو کرنسی پر واضح فتویٰ:
"موجودہ شکل میں کرپٹو (بٹ کوائن، ٹوکنز، اسٹیبل کوائن) کی خرید و فروخت زیادہ تر سٹہ بازی ہے، لہٰذا جائز نہیں۔"
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کا تازہ فتویٰ۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے… pic.twitter.com/B6P0uYYJE4
— Crypto Roznama : کرپٹو روزنامہ (@CryptoRoznama) July 9, 2026
: فتویٰ میں یہ اہم وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کرپٹو کرنسی، ورچوئل کرنسی، کرپٹو ٹوکن اور اسٹیبل کوائن جیسے مختلف نام دراصل ایک ہی نوعیت کے ڈیجیٹل اثاثے ہیں۔ فتویٰ کے مطابق، کسی بھی چیز کا نام یا اصطلاح تبدیل کرنے سے اس کی شرعی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا؛ لہٰذا ان تمام اثاثوں پر ایک ہی شرعی حکم لاگو ہوگا اور ان کی خرید و فروخت ناجائز رہے گی۔
یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت اور ریگولیشن کے حوالے سے حکومتی سطح پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ بہت سے سرمایہ کاروں نے اس شعبے میں بھاری رقوم لگا رکھی ہیں، اور اس شرعی قدغن کے بعد اب ان کی نظریں حکومتی پالیسی فیصلوں پر مرکوز ہیں کہ آیا حکومت اس فتویٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے کرپٹو کے حوالے سے کوئی سخت پالیسی اپنائے گی یا نہیں۔
یہ فتویٰ ڈیجیٹل معیشت کے حامیوں اور مذہبی حلقوں کے درمیان ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اب کرپٹو کے شرعی جواز پر سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

