واشنگٹن/تہران:امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور دیگر مقامات پر 90 سے زائد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کا مقصد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا اور ان کی میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔
جواب میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کویت، بحرین، قطر اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی جانب سے ان کارروائیوں کو اپنے دفاع کے لیے ایک "تنبیہی ردعمل” قرار دیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان قائم "کمزور جنگ بندی” عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اگرچہ قطر اور پاکستان سمیت متعدد علاقائی ثالث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں، تاہم دونوں طرف سے جاری جارحانہ بیانات نے امن کی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔ ماہرینِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ تنازع اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی لائن اور خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مکمل جنگ سے گریز چاہتے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید حملے کیے تو انہیں مزید شدید جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بی بی سی فارسی نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے حوالے سے لکھا ہے کہ قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایگزیوس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ خبریں ثالث ممالک کے دو ذرائع کے ساتھ ساتھ ایک امریکی اہلکار سے حاصل کی ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت اور جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے اور انھوں نے ایران پر سلسلہ وار حملوں کا حکم دیا ہے، تاہم ان کی توجہ اب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے پر مرکوز ہے۔
ایگزیوس نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ مکمل جنگ میں واپس جانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے، جنگ رکوانے کے لئے پاکستان ، قطر متحرک، ایگزیوس

