بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
سابق صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے کہا ہے کہ “کسی بھی کالعدم تنظیم کو بھتہ دینے سے بہتر میں موت کو ترجیح دوں گا۔” انہوں نے صحافی وقار ستی کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو “من گھڑت، بے بنیاد اور حقائق کے منافی” قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی، ایک ارب روپے ہرجانے کے دعوے اور لیگل نوٹس جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں سردار عبدالرحمن کھتیران نے کہا کہ صحافتی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ کسی بھی خبر کی اشاعت یا نشر سے قبل اس کی مکمل تصدیق کی جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بغیر تصدیق ایسی خبریں نشر کرنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے ان کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچا ہے۔سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پیکا ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی چارہ جوئی کریں گے اور صحافی وقار ستی کو ایک ارب روپے ہرجانے کے دعوے پر مبنی قانونی نوٹس بھی بھجوائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مبینہ جھوٹی خبر اور اس سے متعلق پروپیگنڈے میں ملوث عناصر کو بھی بے نقاب کیا جائے گاانہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص کو جھوٹی اور غیر مصدقہ معلومات پھیلا کر کسی کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور وہ اپنے قانونی حقوق کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔سردار عبدالرحمن کھتیران نے مزید کہا کہ ان کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک محبِ وطن پاکستانی ہیں اور اپنے ملک، مسلح افواج اور مادرِ وطن سے بھرپور محبت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا وہ قانونی اور آئینی طریقے سے جواب دیں گے

