لاہور(محافظ نعیم سے )
پنجاب اسمبلی میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزی پر مذمتی قرارداد جمع، قرارداد چیف وہپ ن لیگ رانا محمد ارشد نے جمع کروائی،یہ ایوان بھارت کی جانب سے پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی پر زور مذمت کرتا ہے، پچھلے سال بھی بھارت نے اچانک پانی چھوڑ کر کسان پر حملہ کیا، تاہم حکومت پنجاب نے اپنے قائد میاں محمد نواز شریف کی ہدایات پر متاثرین کی بھرپور مدد کی، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلاب متاثرین کی بھر پور مدد کی گئی، مریم نواز شریف نے خود پنجاب کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا، وزیر اعلی نے متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی کی ، کسانوں کو مالی امداد فراہم کی، جن لوگوں کے مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ، انہیں بھی حکومتی سطح پر معاونت دی گئی، مشکل وقت میں افواج پاکستان کے بہادر سپاہیوں نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، افواج پاکستان نے حکومت پنجاب کے ساتھ مل کر عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا، ہم نے اس وقت بھی بھارت کی جارحیت، آبی دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی تھی، آج بھی واضح کرتے ہیں کہ بھارت کی یہ مسلسل جارحیت کسی صورت قابل قبول نہیں، کبھی دریائوں میں اچانک پانی چھوڑ کر تباہی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی پاکستان کا جائز پانی روکنے کی سازش کی جاتی ہے، یہ اقدامات نہ صرف پاکستان بلکہ کروڑوں کسانوں کے معاشی مستقبل پر حملہ ہیں، عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کی ان اشتعال انگیز کارروائیوں، آبی جارحیت اور بین الا قوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیا جائے، پاکستان اپنے کسانوں، اپنے آبی حقوق اور اپنی قومی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور سفارتی فورم پر بھر پور آواز بلند کرتا رہے گا، ہم کسی بھی قسم کی آبی جارحیت یا بدمعاشی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے، یہ ایوان واضح کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، متنسندھ طاس کے تحت پاکستان کو حاصل پانی اس کا قانونی اور تسلیم شدہ حق ہے، پاکستان اپنے اس حق پر کسی قسم کی ڈاکہ زنی یا ناجائز قبضے کی اجازت نہیں دے گا، پاکستان ہر سطح پر اپنے آبی حقوق کا دفاع کرے گا، یہ ایوان اقوام متحدہ، عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کا پابند بنائیں، بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا نوٹس لیں اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں، متن ۔

