لندن/نیویارک: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایرانی خام تیل کی برآمدات پر پابندیوں کی بحالی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں تقریباً 2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سرمایہ کاروں میں اس خدشے نے جنم لیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین قائم جنگ بندی اب انتہائی کمزور ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی عالمی سپلائی لائنز دوبارہ شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ صرف گزشتہ دو دنوں کے دوران عالمی بینچ مارکس میں مجموعی طور پر 5 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برینٹ خام تیل: برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.38 ڈالر (1.9 فیصد) اضافے کے ساتھ 75.54 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI): امریکی خام تیل کی قیمت 1.37 ڈالر (1.9 فیصد) اضافے کے ساتھ 71.81 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، تو تیل کی قیمتیں جنگ سے قبل کی سطح پر واپس آ گئی تھیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں "شارٹ پوزیشنز” لے رکھی تھیں، یعنی وہ قیمتوں میں مزید کمی کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم حالیہ فوجی حملوں اور پابندیوں کی بحالی نے ان تمام توقعات کو ختم کر دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان یہ تناؤ برقرار رہا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑی، تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے خدشات قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتے ہیں، جو عالمی مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

