خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے سرحدی علاقے دانہ سر میں مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 16 افراد جاں بحق جکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
بلوچستان کے ضلع شیرانی کے ضلع انتظامیہ کے مطابق ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں،
حادثے میں حادثے میں 16افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تیز موڑ پر بریک فیل ہونے کے باعث ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا، جس کے نتیجے میں حادثہ پیش آیا
جائے وقوعہ پر موجود ریسکیو 1122 مانی خواہ شیرانی کے مطابق بس 70فٹ سے زیادہ گہری کھائی میں گری جس کے نتیجے میں اس کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ کئی مسافر اس تباہ شدہ بس کے ڈھانچے کے اندر بری طرح پھنس گئے تھے جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
سب سے پہلے زخمیوں کو نکالکر ژوب روانہ کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قریب ترین بڑا سرکاری ہسپتال ژوب میں واقع ہے جو جائے وقوعہ سے 70 سے 80 کلومیٹر دور ہے۔
حادثے کی جگہ سے اب تک 40 میں سے 37 لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ باقی تین لاشیں نکالنے کا کام جاری ہے۔ مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
بس کمپنی کے مطابق کوئٹہ سے روانگی کے وقت بس میں 36 مسافر سوار تھے۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی نے بتایا کہ راستے میں ایک دوسری بس خراب ہونے پر ڈرائیور نے اس کے مسافروں کو بھی اسی بس میں منتقل کر دیا گیا جس کے باعث مسافروں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور زیادہ جانی نقصان ہوا۔
حادثے جس علاقے میں پیش آیا وہ پہاڑی اور غیرآباد ہے ۔ حکام کے مطابق قریب سے گزرنے والی ایک پک اپ گاڑی کے ڈرائیور نے قریبی سکیورٹی چوکی پر آکر حادثے کی اطلاع دی جس کے بعد ریسکیو کا کام شروع کیا گیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی شیرانی، ژوب اور خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق ضلع کے سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ژوب سے 20 ایمبولینسیں بھی جائے وقوعہ روانہ کی گئیں۔ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے کنٹرول روم کے مطابق بلوچستان حکومت کی درخواست پر خیبر پختونخوا حکومت نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور ڈیرہ اسماعیل خان سے دو ریسکیو ٹیمیں چھ ایمبولینسوں کے ساتھ روانہ کی گئیں۔
جائے حادثہ سے کچھ فاصلے پر ایک سکیورٹی چوکی قائم ہے جہاں صوبے سے باہر جانے والی گاڑیوں اور بسوں کی چیکنگ کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق حادثے کا شکار بس کو بھی اسی چوکی پر کافی دیر تک روکا گیا ۔ بس میں اضافی ایرانی ڈیزل موجود تھا جسے سکیورٹی اہلکاروں نے اتار لیاتھا۔ان کے بقول ممکن ہے کہ اس تاخیر کے بعد ڈرائیور نے رفتار تیز کر دی ہو۔
حادثے میں زخمی ہونے والے عینی شاہد مسافر حسین احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ بس ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی کھائی میں گرائی تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
سول ہسپتال ژوب ٹراما سینٹر میں زیر علاج حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ راستے میں بس خراب ہونے پر وہ ایک اور مسافر کے ساتھ پشاور جانے والی اس بس میں سوار ہوئے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفر کے دوران بس میں موجود مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہو رہی تھی۔




