ریاض+لندن: خام تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز معمولی کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل کی بحالی کے حوالے سے مزید واضح پیش رفت کے منتظر ہیں۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 20 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے بعد 77.70 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 12 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 73.74 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
مارکیٹ میں اب بھی شکوک و شبہات موجود ہیں کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان گہری بداعتمادی پائی جاتی ہے، جس کے باعث جنگ سے پہلے والی تیل کی قیمتوں کی سطح پر فوری واپسی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
دریں اثنا خام تیل برداردو جہاز تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل لے کر پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اتوار کے مقابلے میں بحری ٹریفک میں بہتری آ رہی ہے۔
ادھر امریکی محکمہ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں خام تیل کے ذخائر گزشتہ ہفتے کم ہو کر 331.2 ملین بیرل رہ گئے، جو جون 1983 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے تنازع کے بعد سپلائی پر دباؤ کے باعث ذخائر میں یہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی، سرمایہ کاروں کی نظریں آبنائے ہرمز پر

