نیویارک/عالمی ڈیسک: وال اسٹریٹ پر منگل کے روز مندی کا گہرا سایہ چھایا رہا، جس کی قیادت ٹیک سیکٹر نے کی۔ نیسڈیک انڈیکس کے ٹریکنگ کنٹریکٹس میں 2 فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
The S&P 500 and the Nasdaq closed down, dragged by declines in the megacap technology stocks including Alphabet, while investors assessed developments in US-Iran negotiations https://t.co/SFYWHgeA1Z pic.twitter.com/7MEZgbsxIZ
— Reuters (@Reuters) June 23, 2026
ٹیک اسٹاکس میں بھاری فروخت
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، صبح 03:33 بجے (ای ٹی) کے وقت:
نیسڈیک 100 ای مِنِی فیوچرز: 693.25 پوائنٹس (2.25 فیصد) کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہے تھے۔
ایس اینڈ پی 500 ای مِنِی فیوچرز: 101.25 پوائنٹس (1.34 فیصد) نیچے آ گئے۔
ڈاؤ ای مِنِی فیوچرز: 372 پوائنٹس (0.71 فیصد) کی گراوٹ دیکھی گئی۔
سرمایہ کاروں میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے شعبے میں کمپنیوں کے اخراجات قرضوں پر مبنی ہیں، اور بلند شرح سود کے اس دور میں یہ اخراجات کمپنیوں کے منافع کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایلفابیٹ، میٹا، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ ایلون مسک کی اسپیس ایکس کے حصص میں پیر کے روز 16 فیصد کی بھاری گراوٹ نے بھی مارکیٹ کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

وال اسٹریٹ کی اس مندی کے اثرات یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں تک پھیل گئے ہیں، جہاں شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ میں رسک لینے سے گریز کی وجہ سے نہ صرف اسٹاکس بلکہ خام تیل اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
اگرچہ پیر کو چپ بنانے والی کمپنیوں (سیمی کنڈکٹرز) نے ریکارڈ سطح کو چھوا تھا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اے آئی سے متعلق اسٹاکس کی ‘اوور ویلیوایشن’ (ضرورت سے زیادہ قیمت) کے باعث یہ دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں بدھ کے روز آنے والے مائیکرون (Micron) کے مالیاتی نتائج پر مرکوز ہیں، جو میموری اور اے آئی چپس کے مستقبل کے بارے میں واضح سمت فراہم کریں گے۔

