قاضی احمد رپورٹ: سائیں بخش لاکھو)
آفتاب کالونی قاضی احمد کے رہائشی رسول بخش جتوئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے 10 سالہ بیٹے عرفان کو رات کے وقت معمولی طبیعت خراب ہونے پر ٹی ایچ کیو اسپتال قاضی احمد لایا گیا، جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے انجیکشن لگانے کے بعد بتایا کہ بچے کی حالت بہتر ہے اور اسے گھر لے جانے کا مشورہ دیا۔رسول بخش جتوئی کے مطابق گھر پہنچنے کے کچھ دیر بعد عرفان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، جس پر وہ فوری طور پر دوبارہ اسے اسپتال لے آئے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈیوٹی ڈاکٹر اسپتال میں موجود نہیں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ان کا بیٹا جاں بحق ہوگیا۔متاثرہ والد نے وزیرِ صحت سندھ محترمہ عذرا فضل پیچوہو اور ڈی ایچ او شہید بینظیر آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر پر غفلت کے الزامات متاثرہ خاندان کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ واقعے کے حوالے سے اسپتال انتظامیہ یا متعلقہ ڈاکٹر کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکیں گے۔

