ویب ڈیسک:امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی معاملات کو حل کرنے کے لیے آج 21 جون (اتوار) کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن شٹاخ میں مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ان مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان اور قطر کے وفود بھی شریک ہوں گے، جو اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران کی شرکت کا بنیادی مقصد امریکا سے ان وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرنا ہے جو مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حتمی معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز صرف اُسی وقت ممکن ہے جب یادداشت کی اہم شقوں (نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11) پر عملی طور پر عمل درآمد شروع ہو جائے۔
❗Iran’s FM Araghchi MEETS with Pakistani Interior Minister Naqvi to discuss Iran-US negotiations — SNN pic.twitter.com/egl5HvBYDu
— RT (@RT_com) June 20, 2026
اس اہم پیش رفت کے تناظر میں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں پاکستان-ایران تعلقات اور امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک جانب جہاں سفارتی سطح پر مذاکرات جاری ہیں، وہیں آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی صورتحال پر عالمی نظریں مرکوز ہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بیان کے بعد پیدا ہونے والے خدشات پر امریکا نے ردعمل دیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے اعلان کے برعکس، آبنائے ہرمز پوری طرح کھلی ہے اور اسے بند کیے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ تکنیکی مذاکرات خطے میں جاری تناؤ کو کم کرنے اور مستقبل کے کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ عالمی برادری کو اب اس بات کا انتظار ہے کہ آیا ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے عمل میں کوئی پیش رفت ہو پاتی ہے یا نہیں۔

