گوادر:
پاکستان اور چین کے مابین اقتصادی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔ گوادر فری زون میں تیار کردہ گدھے کے گوشت کی پہلی کھیپ چین کی تیانجن بندرگاہ پر کسٹمز کلیئرنس کے بعد باضابطہ طور پر چینی مارکیٹ میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ گوادر فری زون میں تیار ہونے والی پہلی غذائی مصنوعات ہے جو چین برآمد کی گئی ہے۔
یہ برآمدی عمل چین کی ایک کمپنی ‘ہینگیینگ ٹریڈنگ انٹرپرائز’ کی جانب سے مکمل کیا گیا ہے۔ کمپنی نے پاکستان کے لائیو سٹاک اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے گوادر نارتھ فری زون میں 5 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک جدید ذبیحہ خانہ (سلاٹر ہاؤس) قائم کیا ہے، جس کا مقصد گدھے کے گوشت اور کھالوں کو برآمد کے لیے تیار کرنا ہے۔
اس منصوبے کو سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کے تحت ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اور چین نے 2024 میں گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کے پروٹوکولز کو حتمی شکل دی تھی، جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے اپنی برآمدی پالیسی میں ترمیم کی تاکہ گوادر فری زون کے منظور شدہ ذبیحہ خانوں سے برآمدات ممکن ہو سکیں۔
چین کو اس گوشت کی ضرورت کیوں ہے؟
چین دنیا میں گدھے کے گوشت اور کھالوں کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ گدھے کی کھالیں خاص طور پر ‘ایجیائو’ (Ejiao) نامی روایتی چینی ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف زرعی تجارت کو فروغ ملے گا، بلکہ خطے میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اس تاریخی برآمد پر ہینگیینگ حکام نے وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی، سی پیک اتھارٹی، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مکمل معاونت فراہم کی
سی پیک پر عملدرآمد شروع،پاکستان سے گدھے کے گوشت کی پہلی کھیپ چین پہنچ گئی

