اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )
سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان اور افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، بعض عناصر نے احتجاج کو تشدد، نفرت اور ریاستی اداروں کے خلاف مہم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی،کسی بھی پاکستان مخالف ایجنڈے یا ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا،آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ اپنے نظریاتی، جغرافیائی اور تاریخی رشتے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے شاہ غلام قادر، پاکستان پیپلز پارٹی کی نبیلہ ایوب خان اور دفاعی تجزیہ کار کرنل(ر)شیراز احمد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، سردار عتیق احمد خان نے مزیدکہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک ابتدا میں آٹے اور بجلی کے نرخوں سے متعلق تھی جسے تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی، تاہم بعد ازاں اس تحریک کا رخ آئینی اور سیاسی معاملات کی جانب موڑ دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر نے احتجاج کو تشدد، نفرت اور ریاستی اداروں کے خلاف مہم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، پاکستان آزاد کشمیر کے عوام کے لیے قبلہ و کعبہ کے بعد سب سے محترم ریاست ہے اور 99 فیصد کشمیری عوام نظریۂ پاکستان پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے خواجہ مہران کی جانب سے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری عوام کا مؤقف نہیں بلکہ دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔پاکستان مسلم لیگ کے رہنماءشاہ غلام قادر نے کہا کہ حقوق کی تحریک کے ابتدائی مطالبات جائز تھے لیکن اس کی حکمت عملی تصادم کی جانب جاتی دکھائی دے رہی تھی، حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر نے عوامی مطالبات کے حل کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے اور متعدد مطالبات تسلیم کیے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقوں نے تحریک کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران سرکاری و نجی املاک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا اور متعدد جانیں ضائع ہوئیں، جن کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے۔پیپلز پارٹی کی رہنماءنبیلہ ایوب خان نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں عوامی حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہر شہری کا حق ہے لیکن اگر مطالبات کی آڑ میں ریاستی اداروں، افواج پاکستان اور ملکی سلامتی کے خلاف بیانیہ تشکیل دیا جائے تو ریاست کو کارروائی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام کو آٹے، بجلی، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں غیر معمولی سہولیات فراہم کی ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔کرنل (ر) شیراز نے اپنے خطاب میں کہا کہ بعض عناصر منظم انداز میں کشمیری نوجوانوں کو پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کشمیریوں کی سب سے بڑی محافظ اور وکیل ہے اور آزاد کشمیر کی ترقی، انفراسٹرکچر اور فلاحی منصوبوں میں اس کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے خلاف بغاوت پر اکسانے والے بیانات انتہائی تشویشناک ہیں اور ان کے پس پردہ عناصر کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔پریس کانفرنس کے دوران مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ اپنے نظریاتی، جغرافیائی اور تاریخی رشتے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل کا حل آئینی، قانونی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے ممکن ہے اور عوامی نمائندگی کے لیے انتخابات ہی بہترین راستہ ہیں۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قانون شکنی، تشدد اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے جبکہ عام شہریوں کو ایسے گروہوں کے اثر و رسوخ سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور جمہوری عمل کا تسلسل ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔


