قاضی احمد رپورٹ سائين بخش لاکھو
سندھ ترقی پسند پارٹی تحصيل قاضی احمد کی جانب سے مرکزی قیادت کی اپیل پر "آؤ سندھ سنواریں” مہم کے تحت تین نکاتی جدوجہد کے سلسلے میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی سماٹ سی این جی سے شروع ہو کر پریس کلب قاضی احمد چوک تک پہنچی، جس میں کارکنوں اور رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی منشیات، سرکاری اداروں میں کرپشن، بند پڑے اسکولوں اور نہری شاخوں میں پانی کی مصنوعی قلت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ریلی کی قیادت قربان علی مہر، اللہ بچایو رند، غلام مصطفیٰ گھلو، ایم ایس لاکھو، خادم حسین سنگراھ، کامریڈ کریم بخش گھلو اور دیگر رہنماؤں نے کی۔اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں تعلیم، صحت اور زراعت سمیت اہم شعبے شدید مسائل کا شکار ہیں، مگر حکمران عوامی مشکلات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ بھر میں بند پڑے سات ہزار اسکول فوری طور پر کھولے جائیں، اساتذہ کی کمی پوری کی جائے اور تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے۔ سندھ میں منشیات کا کاروبار نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے، لہٰذا منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور صوبے کو منشیات سے پاک بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی شدید کمی ہے جبکہ کرپشن کے باعث عوام کو بنیادی طبی سہولیات بھی میسر نہیں۔ حکومت فوری طور پر اسپتالوں میں سہولیات بہتر بنائے اور صحت کے شعبے سے کرپشن کا خاتمہ کرے۔رہنماؤں نے نہری شاخوں میں پانی کی مصنوعی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں اور زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبادگاروں کو ان کے حصے کا پانی فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔


