حافظ آباد: دفتر میں پرسنل واش روم کے استعمال پر سیاسی شخصیت اور ڈی پی او کے درمیان تلخ کلامی اس وقت ایک بڑے انتظامی تنازعے میں تبدیل ہو گئی، جب بالا حکام نے حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کامران حمید کا تبادلہ کر دیا۔
واقعہ کی تفصیلات ذرائع کے مطابق واقعہ ڈی پی او آفس میں منعقدہ ایک سیاسی بیٹھک کے دوران پیش آیا۔ اس ملاقات میں ایک مقامی ایم پی اے کے صاحبزادے، جو آئندہ انتخابات کے امیدوار بھی ہیں، سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات شریک تھیں۔ دورانِ میٹنگ سیاسی شخصیت نے ڈی پی او کے پرسنل واش روم کی جانب جانے کی کوشش کی۔
ڈی پی او کامران حمید نے انہیں روکتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ان کا ذاتی واش روم ہے اور اسے بغیر اجازت استعمال نہ کیا جائے۔ سیاسی شخصیت نے اپنے اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے رعایت مانگی، تاہم ڈی پی او نے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے مبینہ طور پر انہیں وہاں سے نکل جانے ("Get Lost”) کا کہہ دیا۔
تبادلے کا پسِ منظر یہ واقعہ پیش آنے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہو گیا کہ ڈی پی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اگرچہ ابتدائی دنوں میں یہ خبریں محض افواہیں تھیں، لیکن مبینہ طور پر سیاسی دباؤ، اعلیٰ حکام تک فون کالز اور بااثر شخصیات کی مداخلت کے بعد یہ افواہ حقیقت کا روپ دھار گئی۔ محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق کامران حمید کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ نئے ایس پی نے چارج سنبھال لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردِ عمل تبادلے کے احکامات جاری ہونے کے بعد، واقعہ میں ملوث سیاسی شخصیت میاں حیدر علی بھٹی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک طنزیہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: "Now You Get Lost”، جس کے بعد یہ معاملہ علاقے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

