لاہور(رپورٹ : اسد مرزا)
شاہدرہ کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ایک ملزم زخمی ہونے کے باوجود فرار ہو گیا، تاہم بعد ازاں پولیس نے زخمی ملزم کی اطلاع سے متعلق ایک جوتا ساز فیکٹری پر کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری مالک، اس کے بھائی اور متعدد ملازمین کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے فیکٹری سے لاکھوں روپے مالیت کا ریگزین، کیمیکل اور دیگر خام مال بھی قبضے میں لے لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چار روز قبل کجھوروں والا روڈ فرخ آباد کے علاقے میں رات گئے پولیس تعاقب کرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچی جہاں مبینہ ملزمان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے دوران ایک ملزم زخمی ہو گیا جبکہ دیگر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ زخمی ملزم مبینہ طور پر قریبی گلی میں داخل ہوا اور ایک جوتا ساز فیکٹری کی دیوار یا گیٹ پھلانگ کر اندر چلا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ فیکٹری ملازمین نے رات کے وقت شور شرابہ سن کر فیکٹری کی تلاشی لی مگر انہیں کوئی شخص نظر نہ آیا۔ اگلی صبح فیکٹری کی چھت پر ایک زخمی شخص ملا جو پانی مانگ رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق فیکٹری مالک جندول خان نے منیجر ارشد سے مشورہ کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر زخمی شخص فیکٹری میں دم توڑ گیا تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعد ازاں پولیس کو اطلاع دینے کی بات کی گئی، تاہم اس دوران مذکورہ شخص وہاں سے جا چکا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے علاقے کی مختلف فیکٹریوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا، جس کے بعد مبینہ طور پر زخمی ملزم کو جندول خان کی فیکٹری میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ اس بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری مالک جندول خان، ان کے بھائی ہاشم خان اور فیکٹری کے متعدد ملازمین جن میں ولی، رحمت علی، کامران، آفتاب اور مسعود سمیت دیگر افراد شامل ہیں، کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا کہ زخمی شخص ممکنہ طور پر خودکش حملہ آور یا کسی سنگین واردات میں مطلوب ملزم ہو سکتا ہے اور فیکٹری انتظامیہ پر اسے پناہ دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ تاہم فیکٹری مالکان نے صفائی دی کہ وہ ملزم کو نہیں جانتے اس حوالے سے پولیس کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ بتایا گیا ہے کہ فیکٹری مالک جندول خان کو دیگر افراد سے الگ کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جبکہ فیکٹری سے بڑی مقدار میں خام مال، ریگزین اور کیمیکل بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ واقعے کے حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے سرکاری بیان جاری ہونے کا انتظار ہے، جبکہ فیکٹری مالکان کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، بصورت دیگر زیر حراست افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق زخمی ملزم کا تعلق ڈکیت گینگ سے تھا جو فیکڑی کے سٹاف نے اسے پناہ دی اس حوالے سے تفتیش جاری ہے


