سکھر ( رپورٹ/ عبد الرحمان راجپوت ) سکھر چلڈرن اسپتال میں مبینہ غفلت، معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں؟ والدین کا نوٹس لینے کا مطالبہ
سکھر کے چلڈرن اسپتال میں مبینہ طور پر انتظامی نااہلی، ڈاکٹرز کی غیر ذمہ داری اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑنے لگی ہیں۔ اسپتال آنے والے بچوں کے والدین اور لواحقین نے شکایت کی ہے کہ بعض اوقات مریض بچوں کو بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی جاتی، جبکہ او پی ڈی، ایمرجنسی اور مختلف وارڈز میں رش کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شہریوں کے مطابق کئی والدین اپنے بیمار بچوں کو گھنٹوں ڈاکٹرز کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں، جبکہ بعض شعبوں میں عملے کی کمی کے باعث مریضوں کو بروقت توجہ نہیں مل پاتی۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی صحت سے متعلق معاملات میں معمولی غفلت بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے اسپتال انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور پیرامیڈیکل عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے، مریضوں کے لیے ادویات اور طبی سہولیات کی دستیابی بہتر بنائی جائے اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے۔واضح رہے کہ سکھر چلڈرن اسپتال (SICHN) کو جدید طبی سہولیات سے آراستہ 200 بستروں پر مشتمل بچوں کے اسپتال کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاکہ اندرونِ سندھ کے بچوں کو معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے وزیرِ صحت سندھ، سیکریٹری صحت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال کے انتظامی امور، ڈاکٹرز کی کارکردگی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا فوری جائزہ لیا جائے ۔

