Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      پاکستان میں آٹو موبائل کا نیا انقلاب: گریٹ وال موٹرز کا ‘کینن الفا’ ہائبرڈ پک اپ ٹرک متعارف

      واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک صارفین سے پیسے وصول کرنے کا فیصلہ

      امریکا کی ایران کے خلاف نئی پابندیاں؛ 1ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے ضبط، ٹیکنالوجی نیٹ ورک کو نشانہ بنانے اور 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان

      پوپ لیو چہار دہم کا بڑا اعلان؛ ‘جسٹ وار’ (جائز جنگ) کا نظریہ فرسودہ قرار

      ڈھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ اسپیڈ، فراری کی پہلی الیکٹرک گاڑی ’لوس‘ لانچ ، قیمت اور خصوصیات جانئیے

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    "کبھی ہمارے گھر بھی آئیے” کیا ہم خاندانی رشتوں کی گرم جوشی کھو رہے ہیں‘‘؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: سہیل احمد رانا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    ایک زمانہ تھا جب پاکستان میں گھر چھوٹے، آمدن محدود، بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول، اور زندگی بظاہر کہیں زیادہ مشکل ہوا کرتی تھی، مگر اس کے باوجود رشتوں میں ایک عجیب سی حرارت، اپنائیت اور زندگی محسوس ہوتی تھی۔
    “کبھی ہمارے گھر بھی آئیے” جیسے سادہ جملے میں خلوص، محبت، سماجی ذمہ داری اور تعلق نبھانے کی حقیقی خواہش پوشیدہ ہوتی تھی۔ یہ محض رسمی جملہ نہیں تھا بلکہ تعلق قائم رکھنے کی ایک زندہ دعوت تھا۔
    مگر آج پاکستانی متوسط طبقے کے معاشرے میں خاموشی سے کچھ بہت قیمتی ختم ہوتا جا رہا ہے۔
    یہ جملہ اب بھی زبانوں پر موجود ہے، مگر دلوں سے اس کی حرارت رخصت ہوچکی ہے۔
    گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر نچلے متوسط طبقے اور متوسط طبقے کے خاندانوں میں ایک تکلیف دہ سماجی تبدیلی نمایاں ہوئی ہے۔ ایک ہی شہر میں رہنے والے بہن بھائی مہینوں نہیں ملتے۔ وہ کزن جو کبھی گرمیوں کی چھٹیاں اکٹھے گزارتے تھے، اب صرف واٹس ایپ پر فارورڈ شدہ عید مبارک پیغامات تک محدود ہوچکے ہیں۔ عید، شبِ برات، شادیوں اور ہفتہ وار ملاقاتوں کی وہ رونقیں، جو کبھی خاندانی زندگی کا حسن تھیں، تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ اس تبدیلی کی واحد وجہ غربت نہیں۔
    بلاشبہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں، یوٹیلیٹی بل، تعلیمی اخراجات اور معاشی بے یقینی نے متوسط طبقے کو بری طرح تھکا دیا ہے، مگر مالی مسائل اکیلے اس خاموشی کی وضاحت نہیں کرسکتے جو اب ڈرائنگ رومز، صحنوں اور خاندانی محفلوں پر چھا چکی ہے۔
    اصل بحران سماجی تھکن ہے۔
    آج کا متوسط طبقہ جذباتی اور جسمانی طور پر اس حد تک تھک چکا ہے جس کا شاید پچھلی نسلوں کو اندازہ بھی نہ تھا۔ شہروں کی بے رحم ٹریفک، پیشہ ورانہ دباؤ، جسمانی توانائی میں کمی، ڈیجیٹل شور، نفسیاتی دباؤ اور مسلسل مصروفیت نے مل کر انسان کے اندر میل جول کی صلاحیت کو کمزور کردیا ہے۔
    بہت سے لوگ اب واقعی اتنی توانائی نہیں رکھتے کہ گھنٹوں مہمان داری کرسکیں، ایک شہر سے دوسرے شہر جائیں یا طویل خاندانی نشستوں کا بوجھ اٹھا سکیں۔
    یہ خاموش تھکن شاید ہمارے معاشرے کا سب سے کم زیرِ بحث آنے والا مسئلہ ہے۔
    لوگ اب بھی کہتے ہیں:
    “کبھی آئیے گا ضرور”
    مگر اکثر اس جملے میں اب انتظار باقی نہیں رہا۔
    اسی طرح جواب آتا ہے:
    “ان شاء اللہ جلد”
    مگر اس میں بھی ارادے کی شدت کم ہی محسوس ہوتی ہے۔
    رشتے اب بھی قائم ہیں، مگر صرف انتظامی سطح پر؛ جذباتی سطح پر وہ کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔
    ٹیکنالوجی نے آلات کو تو جوڑ دیا ہے، مگر گھروں کو ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔
    ایک وقت تھا جب خاندانی میل جول ہی تفریح ہوا کرتا تھا۔ بغیر کسی منصوبہ بندی کے رشتہ داروں کے گھر چلے جانا، رات گئے تک گپ شپ، ایک کپ چائے پر سیاست، ہنسی مذاق، پرانی یادیں — یہی زندگی تھی۔
    آج تفریح انفرادی ہوچکی ہے۔
    گھر کے ہر فرد کی اپنی اسکرین، اپنا سوشل میڈیا، اپنی دنیا، اپنے ہیڈفون اور اپنی الگ جذباتی کائنات ہے۔
    آج ایک شخص پورا دن آن لائن گزار سکتا ہے اور پھر بھی خود کو “سماجی طور پر مصروف” محسوس کرتا ہے، حالانکہ اس نے کسی انسان سے بالمشافہ ملاقات تک نہیں کی ہوتی۔
    یہیں سے جنریشن زیڈ کا کردار سامنے آتا ہے۔
    نئی نسل ایک بالکل مختلف سماجی ماحول میں پروان چڑھی ہے۔ ان کے لیے تعلقات کی تعریف پہلے سے مختلف ہے۔ وہ ذاتی حدود، پرائیویسی، سہولت، مختصر میل جول اور ڈیجیٹل رابطوں کو روایتی خاندانی اجتماعات پر ترجیح دیتے ہیں۔ بڑے خاندانی اجتماع اکثر انہیں غیر ضروری طور پر تھکا دینے والے یا حد سے زیادہ رسمی محسوس ہوتے ہیں۔
    ضروری نہیں کہ وہ بے حس ہوں۔
    بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولی ہے جہاں تعلقات زیادہ تر اسکرینوں کے ذریعے نبھائے جاتے ہیں، جسمانی موجودگی کے ذریعے نہیں۔
    مگر پرانی نسلیں اب بھی محبت، احترام، وفاداری اور تعلق کی گہرائی کو “آمنے سامنے موجودگی” سے جوڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی معاشرے میں ایک خاموش بین النسلی فاصلہ پیدا ہو رہا ہے۔
    یہ ایک لطیف مگر انتہائی گہرا المیہ ہے۔
    بہت سے والدین اب ان بچوں کے منتظر رہتے ہیں جو ملاقات کے بجائے ویڈیو کال کو کافی سمجھتے ہیں۔ بزرگ رشتہ دار عید کی دوپہریں خاموش دروازوں کو دیکھتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ وہ بہن بھائی جو کبھی ایک ٹی وی ریموٹ پر لڑتے تھے، اب مختصر میسجز تک محدود ہوچکے ہیں۔
    خاندان ابھی موجود ہیں، مگر ان کی جذباتی روح کمزور پڑ رہی ہے۔
    آن لائن جڑے ہوئے، مگر گھروں میں بکھرے ہوئے۔
    شاید اس تبدیلی کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ پاکستانی متوسط طبقہ ہمیشہ سماجی گرم جوشی کے سہارے زندہ رہا ہے۔ نہ اس کے پاس اشرافیہ جیسی آسائشیں تھیں، نہ نچلے طبقے جیسی مجبوری پر مبنی اجتماعی زندگی۔ اس طبقے کی اصل طاقت رشتوں کی قربت، میل جول اور ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنے میں تھی۔
    کبھی رشتہ دار ایک دوسرے کے لیے نفسیاتی سہارا ہوا کرتے تھے۔
    بہت پہلے، جب “ڈپریشن”، “انزائٹی” اور “لونلی نیس” جیسے الفاظ عام نہیں ہوئے تھے، تب ایک دوسرے کے گھر جا بیٹھنا ہی جذباتی علاج تھا۔
    آج مگر زندگی حد سے زیادہ انفرادی ہوچکی ہے۔
    مشترکہ خاندان ختم ہو رہے ہیں، کھلے صحن ماضی بن چکے ہیں، اور “شرکت” کی جگہ “پرائیویسی” نے لے لی ہے۔
    یہاں تک کہ مہمان نوازی بھی اب بوجھ محسوس ہونے لگی ہے۔
    کبھی چائے اور بسکٹ کافی ہوتے تھے، مگر آج سوشل میڈیا نے غیر محسوس طریقے سے میزبانی کے معیار بدل دیے ہیں۔ اب لوگ صرف مہمان نہیں بلاتے، بلکہ ایک “پرفارمنس” کا دباؤ محسوس کرتے ہیں — بہترین کھانا، خوبصورت گھر، مکمل انتظامات۔
    اسی لیے بہت سے لوگ اب لوگوں کو بلانے سے بھی کتراتے ہیں۔
    ہمارے گھر بڑے ہوتے گئے، مگر ہمارے رشتے چھوٹے پڑتے گئے۔
    اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس کے جذباتی نتائج آنے والے برسوں میں بہت گہرے ہوسکتے ہیں۔ انسان صرف ڈیجیٹل تعلقات کے لیے نہیں بنے۔ جذباتی مضبوطی مشترکہ کھانوں، بے ساختہ گفتگوؤں، غم میں ساتھ بیٹھنے، بچوں کے اکٹھے کھیلنے اور بزرگوں کی کہانیوں سے پیدا ہوتی ہے۔
    جب ملاقاتیں ختم ہوتی ہیں تو جذباتی یادیں بھی مرنے لگتی ہیں۔
    ایسے بچے جو وسیع خاندانی روابط کے بغیر بڑے ہوں گے، شاید سماجی طور پر فعال تو ہوں، مگر اندر سے تنہا۔ وہ بات چیت تو کرسکیں گے، مگر تعلقات کی گہرائی سے محروم رہ جائیں گے۔
    عالمی ادارۂ صحت بھی سماجی تنہائی کو ایک بڑھتا ہوا عالمی مسئلہ قرار دے چکا ہے، جبکہ ہارورڈ سمیت دنیا کی بڑی تحقیقات مسلسل یہ بتا رہی ہیں کہ مضبوط انسانی تعلقات خوشی، ذہنی سکون اور جسمانی صحت کے بنیادی ستون ہیں۔
    شاید پاکستان خاموشی سے اسی بحران میں داخل ہو رہا ہے۔
    تاہم اس صورتحال کا حل نئی نسل سے ناراضی نہیں۔ معاشرے ہمیشہ معاشی حالات، ٹیکنالوجی، شہری زندگی اور ثقافتی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتے ہیں۔
    شاید حل صرف اتنا ہے کہ ہم تعلقات کو دوبارہ سادہ بنادیں۔
    شاید ملاقاتوں کا شاندار ہونا ضروری نہیں۔
    شاید ایک سادہ سی چائے، بغیر دکھاوے کی چند منٹ کی نشست، سینکڑوں فارورڈ شدہ پیغامات سے زیادہ قیمتی ہوسکتی ہے۔
    “کبھی ہمارے گھر بھی آئیے”
    یہ جملہ پاکستانی معاشرے سے مکمل طور پر غائب نہیں ہونا چاہیے۔
    کیونکہ اس کے اندر ایک بہت گہری انسانی خواہش چھپی ہوئی ہے:
    اپنوں کی زندگی میں جذباتی طور پر موجود رہنے کی خواہش۔
    اور شاید آنے والے وقت میں یہی گرم جوشی دولت سے بھی زیادہ قیمتی ثابت ہو۔

    Related Posts

    بچیوں بچوں سمیت 6افرادآوارہ کتوں کے کاٹنے سےزخمی

    میاں سومرو کی بہن ملیحہ سومرو کا سول اسپتال کا دورہ

    گھریلو جھگڑے پر شہری نےزندگی کا خاتمہ کر لیا

    مقبول خبریں

    راولپنڈی ، عرفات منہاس کا 5 وکٹوں کے ساتھ تاریخ ساز ڈیبیو، پاکستان کو جیت کیلئے آسٹریلیا نے 201 کاہدف دیدیا

    پاکستان میں آٹو موبائل کا نیا انقلاب: گریٹ وال موٹرز کا ‘کینن الفا’ ہائبرڈ پک اپ ٹرک متعارف

    امریکی صدر کو جھٹکا، عدالت نے کینیڈی سینٹر کے بورڈ سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم دے دیا

    زہریلی شراب پینے سے 15 افراد ہلاک، 8 ملزم گرفتار

    طبی معائنے کے بعد صدر ٹرمپ کی صحت "بہترین” قرار، وائٹ ہائوس

    بلاگ

    ابراہیمی معاہدے: مسلم دنیا بدل رہی ہے، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    "کبھی ہمارے گھر بھی آئیے” کیا ہم خاندانی رشتوں کی گرم جوشی کھو رہے ہیں‘‘؟

    ٹیکس زدہ معیشت اور مہنگائی میں پسنے والی عوام

    عطائیت کا ناسور: مریض، ڈاکٹر اور نظامِ صحت کب تک یرغمال؟

    قربانی یا آلودگی؟ عید پر صحتِ عامہ کو درپیش خطرات عید قرباں: عبادت بھی، صحت کی آزمائش بھی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.