Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      امریکا کے امیر ترین شخص ہونے کے ساتھ دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا اعزاز

      کیا اب فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کا استعمال مہنگا ہونے والا ہے؟ ’میٹا ون‘ متعارف کرا دی گئی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

      مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اورہمارا یہ گندہ و بدبو دار طبقاتی نظام

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرحاجی فضل محمود انجم
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    گئے وقتوں میں جب سرکاری ملازم کی تنخواہ محض گنتی کے چند ہزار روپے ہوا کرتی تھی لیکن ملازم کی گزر اوقات آسانی سے ہو جایا کرتی تھی بلکہ وہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کر لیا کرتا تھا جس سے وہ اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں خرید لیا کرتا تھا۔مثلا” بچوں کیلئے کھلونے اور بچیوں کیلئے پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی گڑیاں جنہیں دیکھ کو وہ خوش ہو جایا کرتی تھیں اور گھر کے آنگن میں بہار آ جایا کرتی تھی۔اس دور کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ایک عام ملازم کی تنخواہ کم ہونے کے باوجود بھی بہرحال اتنی تو تھی کہ اس سے ایک تولہ خریدا جا سکتا تھا۔آج آپ سونے کا ریٹ دیکھیں اور ایک چھوٹے ملازم کی تنخواہ کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس تنخواہ سے ایک تولہ سونا تو کیا آپ ٹھیک طرح سے اپنا ماہانہ گھر کا خرچ بھی پورا نہیں کر سکتے چہ جائیکہ آپ اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کر سکیں یا انکی اسکول و کالج کی فیس دے سکیں یا بیمار ہونے کی صورت میں انکا پراپر طریقے سے علاج کروا سکیں۔بدقسمتی سے اب تو حکومت نے بھی یہ سہولیات دینے اور اپنی آئینی ذمہ داریوں: سے ہاتھ اٹھا لئے بیں حالانکہ وہ ان سہولیات کے بدلے میں عوام سے ٹیکس لیتی ہے جبکہ اشرافیہ کی اپنی مراعات کو دیکھیں تو وہ اب بھی ویسی کی ویسی ہی ہیں جیسی کہ گئے وقتوں میں ہوا کرتی تھیں۔گویا وہ آج بھی مزے میں ہیں۔انکی تجوریاں آج بھی لبالب بھری ہوئی ہیں اور وہ اسی طرح عیش و عشرت اور فارغ البالی کی زندگی گزارے چلے جا رہے ہیں۔ وہ آج بھی ایک تولہ سونا خریدنا تو کیا۔۔۔ بلکہ وہ تو پوری کی پوری سونے کی کان ہی خریدنے کے قابل ہیں۔
    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ غلطی کہاں پہ ہے۔؟ ذرا تحقیق کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ غلطی ہمارے اپنے نظام میں ہے۔سقم ہمارے سسٹم میں ہے جو اپنی تشکیل کردہ پالیسیوں کی بناء پر غریب کو غریب تر بناتا چلا جا رہا ہے اور امیر کو امیر تر۔” یہ سقم صرف افراد میں نہیں ہے بلکہ ہمارے پورے کے پورے نظام میں پیوست ہے اور بری طرح پیوست ہے۔گویا اصل خرابی اس نظام کے خمیر میں ہے جو غریب کا خون نچوڑ نچوڑ کر امیروں کی سلطنتیں اور انکے جزیرے آباد کرتا ہے۔ یہی بوسیدہ، بدبو دار اور گندگی سے لتھڑا ہوا طبقاتی نظام غریب کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لینا چاہتا ہے۔یہاں محنت کرنے والا ایک مزدور اور دیہاڑی دار شخص دو وقت کی روٹی کے لئے ترستا ہے اور جب باوجود کوشش کے بھی نہیں ملتی تو پھر یا تو وہ بذات خود۔۔۔خود کشی کر لیتا ہے یا پھر اپنے بچوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے اور اسکے مقابلے میں وسائل پر قابض طبقہ بغیر کسی محنت کے مزید مالا مال ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جبکہ یہی نظام امیر کی تجوریاں مزید بھرتا چلا جا رہا ہے۔اس نظام کے تحت بننے والی تمام تر پالیسیاں اشرافیہ کے مفادات کی محافظ اور محروم طبقات کے خوابوں کی قاتل بن چکی ہیں جس سے وہ ایک ہی دفعہ نہیں مرتا بلکہ بار بار مرتا ہے۔ ابھی ایک بار مرنے کی تلخی اور کڑواہٹ اسکے حلق میں پھنسی ہوئی ہوتی ہے کہ دوسری بار اسے پھر مرنا پڑ جاتا ہے۔ نتیجتا” غریب روز بروز غربت کی دلدل میں دھنستا اور امیر دولت کے نئے ریکارڈ قائم کرتا چلا جا رہا ہے۔
    اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب بھی کوئی آزمائش کا وقت آتا ہے اور اسکے نتیجے میں کچھ سخت فیصلے ہوتے ہیں تو بدقسمتی سے اسکا شکار ہمیشہ عام عوام یا سفید پوش طبقہ ہی ہوتے ہیں۔ان سخت فیصلوں کا اثر اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے پر نہیں ہوتا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زبردستی کی قربانی کا شکار ہمیشہ عام عوام ہی کیوں ہوتے ہیں اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقات کیوں نہیں۔؟گویا یہ سب کیا دھرا بھی اسی نظام کا ہے۔
    کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک معاشی ناہمواری ہے۔۔۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔۔۔یہ محض معاشی ناہمواری نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت ہی سوچی سمجھی اور منظم ناانصافی ہے جس نے :-
    "معاشرے کو دو انتہاؤں میں تقسیم کر دیا ہے یعنی ایک "بعد المشرقین” پیدا کر دیا ہے جسکے ایک طرف بے بسی و محرومی اور خواری و لاچاری ہے اور دوسری طرف عیاشی و مراعات کی بے دریغ فراوانی اور نوازشات ہیں۔”حالانکہ ہمارے لئے بطور مسلم امہ حکم تو یہ تھا کہ:-
    "پہاڑوں کی چوٹیوں پر گندم چھڑک دو تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ مسلمانوں کی سرزمین میں پرندہ بھوکا ہے۔”
    اب پرندوں کی تو بات ہی کیا۔۔۔۔آج اسی امت مسلمہ کے لوگ اپنے بچوں سمیت اپنی ہی امت کے لوگوں کے ہاتھوں بھوک سے مر ریے ہیں۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔! کیونکہ یہاں زندگی گزارنے کے دو معیار اور طریقے بنا دیئے گئے ہیں۔پہلا یہ کہ:-
    "امیر شخص کو امیر سے امیر تر کر دو”
    اور دوسرا یہ کہ:-
    "غریب شخص کو غریب سے غریب تر کر دو”۔
    ساری سہولیات ساری آسائشیں، ساری مراعات اور ساری نوازشات اشرافیہ کیلئے وقف کر دو۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ ساری کی ساری غربت و مفلسی اور محنت و مشقت غریب کو دیدو۔
    حالات کا یہ جبر۔۔۔۔ ظلم و استبداد۔۔۔۔اور یہ نا انصافی۔۔۔۔ کب تک چلے گی۔؟ آخر کب تک۔!
    آخر کب تک یہ نظام چلتا رہے گا جو انصاف کے نام پر استحصال اور مساوات کے نام پر طبقاتی تقسیم کو فروغ دیتا چلا جا رہا ہے۔

    Related Posts

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    ایندھن کی بچت کے ساتھ تعلیم کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

    مقبول خبریں

    گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا سے   12 لاکھ کروڑ ٹن برف غائب ، دنیا کو بڑا خطرہ لاحق!

    ہندوستانی کرکٹر ایشان کشن نے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کیوں کہا؟

    ہند-افغان تیسرا ٹی-20: ابھیشیک شرما کی 30 گیندوں پر سنچری، تاریخ رقم

      میاں چنوں: ریڑھی بانوں کا بلدیہ ملازمین پر رشوت ستانی کا الزام، اسسٹنٹ کمشنر کا انکوائری کا حکم

    عالمی میڈیا میں ہلچل: وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج کا ٹویٹر اکاؤنٹ بحال

    بلاگ

    پاکستان اور سعودیہ کو ایک جیسی صورت حال کا سامنا

    جرم کے سامنے دیوار بننے والے افسر کے ساتھ کھڑے ہو جائیے

    ایندھن کی بچت کے ساتھ تعلیم کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

    بزمِ سعد شاہوالا جنوبی: ادب کی شمع روشن رکھنے والی ایک توانا آواز

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اچانک ایک نیا اور سنسنی خیز موڑ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.