واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کے روز ایران کے ایک ایسے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دھوکہ دے کر ایرانی فوج کے لیے حساس آلات حاصل کر رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق، علی مجد سپہر نامی ایران بیسڈ شخص اس نیٹ ورک کی قیادت کر رہا ہے۔ یہ گروہ جعلی ویب سائٹس اور دبئی میں موجود درمیانی افراد (انٹرمیڈیریز) کا استعمال کرتے ہوئے خود کو جائز امریکی کاروباری اداروں کے طور پر ظاہر کرتا تھا اور امریکی کمپنیوں سے جدید ٹیکنالوجی، بشمول ‘اسپیکٹرم اینالائزرز’ اور سکیورٹی ڈیٹیکشن آلات حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کو 15 ملین ڈالر تک کا انعام دیں گے۔
علاوہ ازیں، امریکی محکمہ خزانہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر ایک اہم وضاحت جاری کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کا نیا ‘پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی’ (PGSA) ادارہ دہشت گردی کے خلاف قوانین کے تحت بلیک لسٹ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ادارہ پاسدارانِ انقلاب کو مالی، مادی اور ٹیکنالوجی کی مدد فراہم کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ پی جی ایس اے (PGSA) کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین پابندیوں کا شکار بن سکتا ہے۔
اس اقدام پر ‘پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی’ (PGSA) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "ایک ایسے ملک کی جانب سے پابندی عائد ہونا جس کا رہنما بحری قزاقی (piracy) پر فخر کرتا ہو، ہمارے لیے ‘مثبت کارکردگی’ کی علامت ہے۔”
1/
وزارت خزانهداری آمریکا اخیرا از تحریم PGSA خبر داده PGSA ضمن محکومیت این اقدام تحریمشدن توسط کشوری را که رئیس آن به دزدی دریایی افتخار میکند نشانهای از عملکرد مثبت خود میداند.
تسلط بر #تنگه_هرمز را که در میدان و دیپلماسی به دست نیاوردید با تحریم هم به دست نخواهید آورد.— PGSA | نهاد مدیریت آبراه خلیج فارس (@PGSA_IRAN) May 29, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ "آپ (امریکا) آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول حاصل نہیں کر سکیں گے، جسے حاصل کرنے میں آپ جنگ اور سفارت کاری کے ذریعے ناکام رہے، اب پابندیوں کے ذریعے بھی ایسا ممکن نہیں ہوگا۔”
دوسری طرف امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جاری معاشی مہم کے تحت اس کے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو کرنسی اثاثے ضبط کر لیے ہیں۔
فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام ’کڈلو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ”ہم نے ان (ایران) کے تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے قبضے میں لیے ہیں اور ان کے ڈیجیٹل والٹس یعنی اکاؤنٹس کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔“
اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ’آپریشن اکنامک فیوری‘ کے نام سے مارچ 2025 سے شروع اس معاشی مہم نے ایرانی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور وہاں کی حکومت شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو چکی ہے۔

