ویٹیکن سٹی:پوپ لیو چہار دہم نے اپنے پہلے اہم ترین انسائیکلوکل (مذہبی خط) "میگنیفیکا ہیومینٹاس” (Magnifica Humanitas) میں کیتھولک چرچ کی صدیوں پرانی روایت میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ‘جسٹ وار’ یعنی ‘جائز جنگ’ کے نظریے کو فرسودہ قرار دے دیا ہے۔ پانچویں صدی سے رائج یہ نظریہ اب تک عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگوں کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
غلامی کو جائز قرار دینے پر پوپ لیو XIV کی معافی ،ویٹیکن نے AI کو نئی غلامی قراردیدیا،”میگنیفیکا ہیومینٹس” جاری
پوپ لیو نے اپنی دستاویز میں واضح کیا کہ ‘جائز جنگ’ کا نظریہ، جسے اکثر ہر قسم کی جنگ کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اب اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے پاس اب تنازعات کے حل کے لیے بہتر اور مؤثر ذرائع موجود ہیں، جن میں بات چیت، سفارت کاری اور معافی شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسلحہ ساز صنعت کا منافع دنیا بھر میں جاری تنازعات کی بنیادی قوتِ محرکہ بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پوپ لیو XIV کی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کو سخت وارننگ، AI artificial inteligence پر پہلا ’’انسائیکلوکل‘‘ جاری
پوپ کے اس بیان نے امریکی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پوپ کے نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے ‘جائز جنگ’ کے اصولوں کا دفاع کیا ہے، جبکہ کیتھولک حلقوں میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ ویٹیکن میں دستاویز کی پیشکش کے موقع پر کارڈینل بلاس کُپیچ نے کہا کہ پوپ کا مقصد دنیا کے رہنماؤں کو یہ باور کرانا ہے کہ یہ نظریہ کبھی بھی جنگ کی "اجازت نامہ” نہیں تھا، بلکہ ایک "روک تھام” کا ذریعہ تھا جس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
پوپ لیو چہار دہم کا بڑا اعلان؛ ‘جسٹ وار’ (جائز جنگ) کا نظریہ فرسودہ قرار

