قربانی کے بعد گھروں، گلیوں اور اطراف میں پھیلنے والی آلائشوں، خون اور تعفن کی بو اکثر لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔
گرمی کے موسم میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ نمی، خون اور گوشت کی باقیات جراثیم، مچھروں، مکھیوں اور بیکٹیریا کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اگر صفائی اور احتیاط کا خاص خیال نہ رکھا جائے تو مختلف بیماریاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قربانی کے فورا بعد آلائشوں کو کھلا چھوڑنے کے بجائے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا سب سے ضروری قدم ہے۔ آلائشوں کو مضبوط تھیلوں میں بند کرکے جلد از جلد مقررہ جگہ پر منتقل کرنا چاہیے تاکہ تعفن اور جراثیم نہ پھیلیں۔ اگر آلائشیں زیادہ دیر تک کھلی رہیں تو ان پر مکھیاں بیٹھتی ہیں جو بعد میں کھانے پینے کی اشیا کو آلودہ کرسکتی ہیں۔
گھر یا قربانی کی جگہ پر بہنے والے خون کو فوری صاف کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خون والی جگہ پر پہلے پانی بہایا جائے، پھر فینائل، بلیچ یا جراثیم کش محلول کا استعمال کیا جائے تاکہ بدبو اور جراثیم دونوں کا خاتمہ ہو سکے۔ بعض لوگ صرف پانی ڈال کر صفائی مکمل سمجھ لیتے ہیں، لیکن جراثیم کش ادویات استعمال نہ کرنے سے بیکٹیریا باقی رہ سکتے ہیں۔
ماہرینِ حفظانِ صحت کے مطابق عید کے دنوں میں گھر کے کچرے کو معمول سے زیادہ بار باہر پھینکنا چاہیے۔ گوشت کے بچے ہوئے ٹکڑے، چربی یا ہڈیاں اگر زیادہ دیر گھر میں رکھی جائیں تو ان سے شدید بدبو پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈسٹ بن ہمیشہ ڈھکن والے استعمال کریں تاکہ مکھیاں اور کیڑے مکوڑے نہ آئیں۔

