قصور :معیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر قصور میں بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا، عمر قید یا قید (مدت عدالتی فیصلے کے مطابق) کی سزا اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
شہری محمد اسلم کی درخواست پر تھانہ صدر میں تین مختلف دفعات کے تحت درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 13 جولائی کو قصور میں جلسے کے دوران مولانا فضل الرحمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوجی شہدا کے بارے میں دل آزار اور توہین آمیز ریمارکس دئیے، دفعہ 124-اے بغاوت ، اور اس کے علاوہ ریاست کے خلاف نفرت یا بے وفائی پر اکسانے اور ہوا دینے سے متعلق ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دفعہ 153-اے مختلف طبقات کے درمیان نفرت یا دشمنی پھیلانے،مختلف گروہوں یا طبقات کے درمیان عداوت یا نفرت کو فروغ دینے کا جرم ہے۔اس کی سزا عام طور پر پانچ سال تک قید، جرمانہ، یا دونوں ہوسکتی ہیں۔
دفعہ 505-ب عوام میں خوف، بدامنی یا بغاوت پر اکسانے والے بیانات، اور ایسے بیانات یا افواہیں پھیلانے پر عائد ہوتی ہے جن سے عوام یا مسلح افواج میں بے چینی یا امن عامہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔اس کی سزا سات سال تک قید،جرمانہ، یا دونوں ہوسکتی ہیں۔
دوسری طرف گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو متنازع تقریر پر 28جولائی کو طلب کرلیا۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کیخلاف متنازع تقریر پراندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا،عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو 28جولائی کیلئے طلبی نوٹس جاری کرنے کاحکم دیدیا،عدالت نے پولیس کو بھی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔
مولانا فضل الرحمان پر قصور میں بغاوت کا مقدمہ درج، گوجرانوالہ عدالت میں طلب

