کیلیفورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک): سوشل میڈیا کی دنیا میں پرائیویسی کے حوالے سے ایک زلزلہ آ گیا ہے۔ نوجوانوں کی پسندیدہ ترین ایپ انسٹاگرام نے اپنی پالیسی میں ایسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس نے کروڑوں صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ 8 مئی 2026 سے انسٹاگرام کے ڈائریکٹ میسجز (ڈی ایم) میں سے ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ (E2EE) کی سہولت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ اب آپ کی نجی گفتگو پہلے کی طرح محفوظ نہیں رہے گی۔
انسٹاگرام کی مالک کمپنی ’میٹا‘ کا یہ فیصلہ ایک بڑے یو ٹرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں مارک زکربرگ نے بڑے فخر سے اعلان کیا تھا کہ "مستقبل نجی ہے” (The Future is Private) اور انکرپشن کو صارفین کی پرائیویسی کا سنہری معیار قرار دیا تھا۔ تاہم اب کمپنی اس سے پیچھے ہٹ گئی ہے، جس کے بعد اب انسٹاگرام انتظامیہ صارفین کے میسجز، تصاویر، ویڈیوز اور یہاں تک کہ وائس نوٹس تک رسائی حاصل کر سکے گی۔
انسٹاگرام کے اس فیصلے نے انٹرنیٹ کی دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے:
بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکرپشن ختم ہونے سے شدت پسندانہ مواد اور بچوں کے استحصال کی روک تھام میں مدد ملے گی کیونکہ حکام اب مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں گے۔
دوسری جانب پرائیویسی کے حامیوں نے اسے صارف کے بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صارفین کی نجی زندگی اب کمپنی اور حکام کے سامنے ایک کھلی کتاب بن جائے گی۔
8 مئی کے بعد سے جب آپ کسی کو پیغام بھیجیں گے، تو وہ انکرپٹڈ (کوڈڈ) شکل میں نہیں جائے گا۔ اس کا براہِ راست اثر ان لاکھوں صارفین پر پڑے گا جو اپنی نجی اور حساس معلومات کے تبادلے کے لیے انسٹاگرام ڈی ایم پر بھروسہ کرتے تھے۔
میٹا نے 2023 میں فیس بک میسنجر کو انکرپٹ کیا تھا، لیکن انسٹاگرام پر اسے لازمی بنانے کے بجائے اب اسے جڑ سے ہی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم سوشل میڈیا ایپس کے استعمال کے طریقے کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔

