سکھر ( رپورٹ/عبد الرحمان راجپوت )
ٹرین اور لوکل ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں یکسانیت، مہنگائی کے طوفان نے عوام کو پریشان کر دیا۔ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات اب ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں، جہاں ٹرین اور لوکل ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام شہری شدید ذہنی اور مالی دبا کا شکار ہو گئے ہیں۔ مختلف روٹس پر ٹرین اور لوکل ٹرانسپورٹ کے کرایے تقریبا برابر ہونے سے مسافروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹرین کا سفر غریب اور متوسط طبقے کے لیے سستا، محفوظ اور آرام دہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب ریلوے کے بڑھتے ہوئے کرایوں نے اس سہولت کو بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔مسافروں کے مطابق ریلوے میں سہولیات کا فقدان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹرینوں کی غیر معمولی تاخیر، کوچز کی خراب حالت، صفائی کے ناقص انتظامات، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور سیکیورٹی مسائل کے باوجود کرایوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے شکوہ کیا کہ جب سہولیات بہتر نہیں کی جا رہیں تو پھر کرایوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔شہریوں نے ریلوے ٹکٹوں پر اضافی طور پر وصول کیے جانے والے 10 روپے رابطہ فنڈ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ ہر ٹکٹ پر یہ رقم باقاعدگی سے وصول کی جا رہی ہے مگر عوام کو یہ معلوم نہیں کہ یہ فنڈ کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور کس اکانٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ریلوے اس حوالے سے وضاحت جاری کرے اور عوام کو مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔دوسری جانب لوکل ٹرانسپورٹ مالکان بھی من مانے کرائے وصول کرنے میں مصروف ہیں۔

