تحریر:میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
صورتحال یہ ہے کہ میڈیا پر اسرائیل اور امریکہ کا کنٹرول ہے مغربی میڈیا وہ تصویر دکھا رہا ہے جو دکھانا چاہتا ہے غیر جانبدار ذرائع مفقود ہو چکے البتہ سوشل میڈیا سے کچھ حقائق منظر عام پر آ رہے ہیں جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا تڑکا بھی لگا ہوتا ہے اصل حقائق پوشیدہ رکھے جا رہے ہیں ہر کوئی اپنے مطلب کی تصویر کشی کر رہا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اسرائیل ایران جنگ میں شدت آ رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے اپنے شہریوں کو بحرین، مصر،عراق، اسرائیل کے مغربی کنارے غزہ، اردن،کویت، لبنان، عمان،قطر،سعودی عرب، شام اور متحدہ عرب امارات سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں میں شدت دکھائی دیتی ہے دونوں کی کوشش ہے کہ وہ جلد از جلد ایران کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ کر کے ایران کو مفلوج کر دیں امریکہ کے ایران میں رجیم چینج کا منصوبہ مکمل ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت اہم عسکری وسیاسی راہنماوں کی شہادت کے بعد ایرانی قوم یکجا ہو گئی ہے اور بیرونی حملہ آوروں کے خلاف شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے امریکہ نے ایران میں جن لوگوں کو شورش برپا کرنے کے لیے تیار کیا تھا ان کی اکثریت ماری جا چکی ہے اور باقی کے لوگ عوامی وحکومتی غیض وغضب سے بچنے کے لیے زیر زمین چلے گئے ہیں اس لیے ایران کے اندر سے بغاوت کا اب کوئی امکان نظر نہیں آتا اب امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کرکے آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرلے اور اہم بحری تجارتی راستے پر ان کی اجارہ داری قائم ہو جائے دوسرا ان کی کوشش ہے کہ وہ جلد از جلد ایران کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو تباہ کر دے ایران کا ملٹری انفراسٹرکچر ختم کر دے تاکہ ایران کسی بڑی کارروائی کے قابل نہ رہے دوسری جانب ایران نے اسرائیل کو فوکس کر لیا ہے وہ اپنے میزائلوں سے اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنا رہا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے حماس نے بھی اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اسرائیل میں بسنے والے یہودی سخت پریشان ہیں مشرق وسطی میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے سے پورا مڈل ایسٹ افراتفری کا شکار ہے درجنوں ممالک کی سول ایوی ایشن کی انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے 5دنوں میں 30 ہزار فلائٹس منسوخ ہو چکی ہیں لاکھوں مسافر سخت پریشان ہیں مشرق وسطی کی معیشت کو دھچکے لگ رہے ہیں ایک قسم کا زلزلہ آیا ہوا ہے ان کی ہوٹل انڈسٹری سرمایہ کاری فوڈ انڈسٹری اور ٹور ازم متاثر ہو رہی ہے پورے خطے میں مہنگائی سر اٹھا رہی ہے عرب ممالک کی خواہش ہے کہ امریکہ جلد از جلد جنگ وائنڈ اپ کرکے واپس چلا جائے اگر امریکہ نے یہ جنگ ہفتوں میں وائنڈ اپ نہ کی اور بات مہینوں تک چلی گئی تو نہ صرف امریکہ اس جنگ کے گرداب میں پھنس جائے گا بلکہ پورے مڈل ایسٹ کی معیشت کی چولیں ہل جائیں گئیں پاکستان میں جنگ کے اگلے روز ہی سٹاک مارکیٹ کے ہنڈرڈ انڈیکس میں 14 ہزار پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے یاد رہے کہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد مڈل ایسٹ میں روزگار کے سلسلہ میں سیٹلڈ ہیں جو بڑے پیمانے پر ہر ماہ پاکستان میں زرمبادلہ بجھواتے ہیں جس سے نہ صرف ان کے خاندان پل رہے ہیں بلکہ حکومت پاکستان کو بھی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے جس سے کاروبار حکومت چل رہا ہے اگر مڈل ایسٹ میں موجود اوورسیز پاکستانیوں کا روزگار متاثر ہوتا ہے تو لامحالہ اس کے اثرات بھی پاکستان پر آئیں گے اگر یہ جنگ لمبی ہوتی ہے تو دنیا میں توانائی کے بحران کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو گا اگر ایران چار پانچ ہفتے نکال گیا تو امریکہ کے لیے مشکلات پیدا ہونا شروع ہو جائیں گئیں یہ مہنگی ترین جنگ امریکہ کے گلے کی ہڈی بن جائے گی امریکہ کی اسی میں بہتری ہے کہ وہ جو کچھ ہو چکا اسی کو اپنی کامیابی گردانتے ہوئے واپسی کی راہ لے لے امریکہ خود تو ہزاروں میل دور بیٹھا ہے لیکن خطے میں جنگ چھیڑ کر بھونچال لا چکا ہے عرب ملکوں کی معیشت کو داو پر لگا چکا ہے اس کے اثرات بین الاقوامی معیشتوں پر بھی پڑیں گے بیشتر ممالک اس سوچ میں نئی حکمت عملی اپنا رہے ہیں کہ اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو متبادل راستے کیا کیا ہو سکتے ہیں اچھے بھلے معاملات چلا رہے تھے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت نے سب کو ڈسٹرب کرکے رکھ دیا ہے اور وہ جو امن کا داعی بن کر آیا تھا اور اپنے آپ کو امن کے نوبل انعام کا حقدار گردانتا تھا آج دنیا کے امن کو تباہ کرنے کا استعارہ بن چکا ہے اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ جنگ امریکہ کو مضبوط کرے گی یا امریکہ کے زوال کا سبب بنے گی اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا


