اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس (القادر ٹرسٹ کیس) میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے منظور ہوگئی ہے۔ عدالت نے جلد سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کو 11 مارچ کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے متعدد وکلا ایک ساتھ روسٹرم پر آ گئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ ججز نے ریمارکس دیے کہ تمام وکلا ایک ساتھ روسٹرم پر کیوں آ رہے ہیں اور کیا عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ایسی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ آج عدالت کا موڈ بھی خوشگوار ہے اور وہ اسے خراب نہیں کرنا چاہتے۔
سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی درخواستیں کئی ماہ سے سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کا مسئلہ درپیش ہے اور علاج کے لیے انہیں اسپتال لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بشریٰ بی بی رمضان کے مہینے میں جیل میں ہیں، اس لیے استدعا ہے کہ مرکزی اپیل کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے سزا معطلی کی مرکزی اپیلیں 11 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
واضح رہے کہ اس مرحلے پر مرکزی سزا معطلی درخواستیں مقرر نہیں ہوئیں بلکہ صرف جلد سماعت سے متعلق متفرق درخواستیں سماعت کے لیے لگائی گئی ہیں۔ ان سزا معطلی درخواستوں پر آخری سماعت 26 ستمبر 2025 کو ہوئی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیکل بنیادوں پر بھی جلد سماعت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کیلئے منظور

