اسلام آباد: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی خودکش دھماکے سے متاثرہ ترلائی کلاں امام بارگاہ پہنچ گئے، ساتھیوں کے ساتھ نماز مغرب ادا کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری اور آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی نے ترلائی کلاں میں واقع اسی امام بارگاہ و مسجد کا دورہ کیا جہاں جمعہ کے روز خودکش دھماکہ ہوا تھا۔ وفاقی وزراء نے اسی امام مسجد کی اقتدا میں نماز ادا کی جو دھماکے کے وقت امامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
اس موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔نماز کے دوران مسجد میں مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد شریک تھی اور ہر آنکھ پرُنم تھی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد نمازیوں اور اہل علاقہ ‘پاکستان زندہ باد’ کے فلک شگاف نعرے لگا کر یہ ثابت کر دیا کہ دہشت گردی عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یہ حملہ کسی مخصوص مسلک یا طبقے پر نہیں بلکہ براہِ راست پاکستان کی سالمیت، یکجہتی اور انسانیت پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد معاشرے میں خوف اور تفرقہ پیدا کرنا ہے، لیکن ریاست کا جواب صرف اتحاد اور آہنی ہاتھوں سے عملداری قائم کرنا ہے۔
ہم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور تمام زخمیوں کے لیے بہترین طبی علاج کی فراہمی کو ذاتی طور پر مانیٹر کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کو ‘ہائی الرٹ’ کر دیا گیا ہے اور اس گھناؤنے فعل کے ذمہ داروں کو بہت جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”مساجد اور تمام عبادت گاہیں ہمارے لیے مقدس ہیں، امن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔”
محسن نقوی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل گھڑی میں ذمہ دارانہ شہری کردار ادا کریں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں۔

