Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      عالمی سیکیورٹی گورننس کا قیام ،نئے عالمی ہتھیاروں کی دوڑ پر ضابطے لاگو کیے جائیں: چین کا مطالبہ

      بلیک ہول اورستاروں کی پیدائش بارے تحقیق میں اہم انکشاف

      مدینہ منورہ سے سونے، یورینئیم سمیت کمیاب اور نایاب دھاتوں کے ذخائر دریافت

      سموگ کے خلاف سیف سٹی کا کریک ڈاؤن: مصنوعی ذہانت ،ڈرونز کی مدد سے صرف 3 دن میں ماحولیاتی آلودگی کی 1,220 خلاف ورزیاں بے نقاب

      ہائیبرڈ گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے بڑی خوشخبری، لمبے انتظار کے بعد سیلز ٹیکس میں کمی!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سڈنی فائرنگ واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنیکے لئے بھارت نے مہم چلائی، عالمی میڈیاحصہ بنا، عطا اللہ تارڑ وفاقی وزیراطلاعات

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف منظم انداز میں ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا پھیلایا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ حکومت پاکستان نے ابتدا ہی سے اس افسوسناک واقعے کی واضح طور پر مذمت کی ہے۔
    عطاء تارڑ نے بدھ کو غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم نے بھی سڈنی فائرنگ کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین سے ہمدردی ظاہر کی۔
    وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوراً بعد بعض ممالک کے میڈیا اداروں کی جانب سے بغیر تصدیق اور شواہد کے غلط رپورٹنگ کی گئی، جس میں دہشت گردوں کا تعلق بے بنیاد طور پر پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
    ان کے مطابق اس پروپیگنڈا مہم میں چند نامور میڈیا آرگنائزیشنز بھی شامل رہیں، جس سے صحافتی اقدار، خبر کی تصدیق اور ادارتی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔
    عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سڈنی فائرنگ اور بونڈائی بیچ کے واقعے پر خاص طور پر بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا نے فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کیے، حالانکہ کسی بھی چینل نے واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی تھی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض مستند سمجھے جانے والے چینلز بھی ڈس انفارمیشن کا حصہ بنے۔
    انہوں نے بریفنگ کے دوران عالمی میڈیا کو پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی منفی مہم کی ویڈیوز بھی دکھائیں اور کہا کہ آسٹریلوی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بونڈائی واقعے کا ملزم بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھتا ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے سے قبل مجرموں نے فلپائن کا سفر بھی کیا تھا۔
    عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان خود کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور 16 دسمبر جیسے دن، جب سانحہ اے پی ایس پیش آیا، پاکستانی قوم کے لیے آج بھی انتہائی تکلیف دہ یاد ہیں، جہاں معصوم بچوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔
    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، کیونکہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے۔
    وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ آج کے دور میں کسی بھی شخص کی شناخت کے جدید ذرائع موجود ہیں اور آسٹریلوی حکام نے بونڈائی واقعے کی تحقیقات میں ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔
    ان کے مطابق بھارتی میڈیا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف الزامات کے سوا کوئی مضبوط بیانیہ موجود نہیں۔
    بریفنگ کے دوران عطاء اللہ تارڑ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے شواہد موجود ہیں اور بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور فنڈنگ میں ملوث ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس جدوجہد میں بھاری قربانیاں دے چکا ہے۔
    آخر میں وزیر اطلاعات نے عالمی میڈیا سے سوال کیا کہ غیر مصدقہ اور غلط خبروں کے ذریعے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی اور پاکستان پر لگائے گئے الزامات کا ازالہ کس طرح کیا جائے گا۔
    انہوں نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان مسائل پر بھی عالمی توجہ دی جانی چاہیے۔

    Related Posts

    سامارو: ہندو لڑکی کی عدالت میں شادی، تحفظ کی اپیل

      مسجد میں 80 سالہ بزرگ پر ڈنڈے سے حملہ، شدید زخمی

      چکوال: ڈپٹی کمشنر کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ سموگ کمیٹی کا اجلاس

    مقبول خبریں

    فرانس معاشی نمو میں کمی کی پیشن گوئی

    بینک آف انگلینڈ میں نئی اہم تعیناتیاں

    چین  ‘نیشنل ڈیفنس موبلائزیشن’ قانون میں اہم ترامیم

    سکیورٹی خدشات:مشہور بین الاقوامی پالیسی کانفرنس "والدائی ڈسکشن کلب”کا مقام  تبدیل 

    بھارتی اداکار اننت ناگ کو 2024 کا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دینے کا اعلان

    بلاگ

      دیر بالا کو آگ نہیں، امن کی روشنی چاہیے

      کیا سعودی عرب چاروں طرف سے غیر محفوظ ہو رہا ہے؟

    ملک شوکت حیات شاہی کھرل—تعلیم، عشقِ رسول ﷺ اور خدمتِ خلق کا روشن استعارہ

    ”بدلتے سیاسی حالات “ میاں حبیب کا کالم

    ہمارے سروں کے اوپر جنگ شروع ہو چکی ہے، آسمان اب محفوظ نہیں رہا

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.