سامارو (رپورٹ: ڈاکٹر ایم لال واگھانی، بیورو چیف عمرکوٹ)
سامارو کے قریب بروہی آباد کی رہائشی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکی نیلان دختر وجل کولہی نے اپنے منگیتر سروڻ کولہی کے ساتھ اپنی رضامندی سے ہندو مذہبی رسومات کے مطابق شیشن کورٹ عمرکوٹ میں شادی کرلی۔
نیلان کولہی کا کہنا ہے کہ اس نے کسی دباؤ یا زبردستی کے بغیر اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ اس کے مطابق اس کے والد اسے پہلے طے شدہ منگنی ختم کرکے کسی دوسرے شخص سے شادی کروانا چاہتے تھے، جس پر اس نے اپنی زندگی کے حوالے سے خود فیصلہ کرتے ہوئے اپنے منگیتر سروڻ کولہی سے شادی کی۔
نیلان کولہی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے والدین یا عزیز اس کے شوہر کے خلاف اغوا سمیت دیگر الزامات پر مقدمہ درج کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ پولیس اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اگر ایسا کوئی مقدمہ درج کرایا جائے تو اس کے بیان اور رضامندی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
نیلان کولہی نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے اور اس کے شوہر کو قانون کے مطابق تحفظ فراہم کیا جائے اور کسی بھی قسم کی زبردستی یا ہراسانی سے محفوظ رکھا جائے۔


