اسلام آباد :نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے مختلف حصوں میں 23 سے 30 اگست تک شدید بارشوں، پہاڑی تودے گرنے سیلاب اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔
این ڈی ایم اے سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ موسمی صورت حال، بارشوں ا ور سیلابی صورت پر الرٹ جاری کیا۔
این ڈی ایم اے کی اجنب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں اب تک 785 افراد کی اموات ہو چکی ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔
پنجاب، خیبرپختونخوا، جی بی، آزاد کشمیر میں طوفانی بارشیں متوقع ہیں، نشیبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا۔
لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے، آج مغربی ہوائیں بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی، تربیلا ڈیم 1550 فٹ کی انتہائی سطح تک بھر چکا، تربیلا ڈیم کے سپیل ویز کھول دیئے گئے۔
ڈاؤن سٹریم میں پانی کا بہاؤ 2لاکھ 50ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے، دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہوگئی، درمیانے درجے کی سیلابی صورت حال برقرار ہے، دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہوکر 20 فٹ ہوگئی، متعدد مقامات پر زمیندارہ بند ٹوٹنے سے فصلیں زیر آب آگئیں، کسانوں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا، ڈی آئی خان میں دریائے سندھ عبور کرتے ہوئے باپ بیٹا ڈوب گئے، مقامی افراد نے دونوں لاشیں نکال لیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کا الرٹ
آج سے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، مون سون بارشوں کا 8 واں اسپیل 27 اگست تک جاری رہے گا۔
راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم ، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ ، حافظ آباد اور وزیر آباد میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
لاہور، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، جھنگ، ننکانہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی بارشیں ہوں گی۔ ڈیرہ غازی خان، بھکر، لیہ، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، راجن پور اور رحیم یار خان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
ڈی جی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 29 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے، دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

