تہران/واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں عالمی معیشت کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ایران نے امریکی کارروائی کے ردعمل میں دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے پارلیمنٹ سے اس کی باقاعدہ منظوری لے لی ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز وہ آبی راستہ ہے جسے عالمی معیشت کی "شہ رگ” کہا جاتا ہے۔
تیل کی ترسیل: دنیا بھر میں استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 سے 30 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔
گیس سپلائی: قطر جیسی بڑی ریاستوں کی ایل این جی (LNG) کی ترسیل کا انحصار بھی اسی گزرگاہ پر ہے۔
اس راستے کی بندش کا مطلب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا اور سپلائی چین کا مکمل مفلوج ہونا ہے۔
دفاعی اور معاشی ماہرین اس حوالے سے منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مکمل بندش کے امکانات درج ذیل وجوہات کی بنا پر کم ہو سکتے ہیں:
آبنائے ہرمز کی بندش کو امریکہ "اعلانِ جنگ” تصور کرے گا، جس کے نتیجے میں ایران پر براہِ راست اور وسیع پیمانے پر امریکی حملوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
ایران اپنی تیل کی برآمدات کے لیے خود اسی راستے پر منحصر ہے۔ بندش کی صورت میں اس کی اپنی معیشت مکمل طور پر بیٹھ سکتی ہے۔
چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس راستے کی بندش سے بیجنگ کے مفادات کو شدید ضرب پہنچے گی، جس کے باعث چین تہران پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل بندش کے بجائے ایران "محدود کارروائیوں” کا راستہ اختیار کر سکتا ہے، جس میں تیل بردار جہازوں کو ہراساں کرنا، سمندری بارودی سرنگیں بچھانا یا عارضی رکاوٹیں کھڑی کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال بھی عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی اور تیل کے بحران کے لیے کافی ہوگی۔
فی الوقت عالمی برادری کی نظریں خطے کی صورتحال پر جمی ہیں، جہاں ایک چھوٹی سی غلطی عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران کا ایٹمی حملوں کے جواب میں ’آبنائے ہرمز‘ بند کرنے کا اعلان: عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

