پیرس/واشنگٹن: ایران میں جاری شدید سیاسی و عسکری تناؤ کے درمیان ایک بہت بڑی سفارتی اور سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی کو باقاعدہ طور پر ‘سربراہِ مملکت’ (Head of State) کا پروٹوکول دے دیا ہے، جس نے تہران کے موجودہ نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
شہزادہ رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بہت جلد ملک واپس پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی عوام کے لیے جس مدد کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فی الحال اپنے گھروں میں رہیں اور کسی بھی قبل از وقت تصادم سے گریز کریں تاکہ منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھا جا سکے۔
شہزادہ رضا نے کہا کہ "ہمارے سامنے تقدیر ساز لمحات ہیں، مناسب وقت کا انتظار کریں اور پھر سڑکوں پر واپس آنے کے لیے تیار رہیں۔”
فرانس کا غیر معمولی اقدام
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فرانس کی جانب سے رضا پہلوی کو سربراہِ مملکت کا پروٹوکول دینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مغربی طاقتیں اب ایران میں متبادل قیادت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پیرس میں ان کی باقاعدہ پذیرائی تہران میں موجودہ حکومت کے خلاف ایک ‘خاموش بغاوت’ کی عالمی حمایت تصور کی جا رہی ہے۔
ایران پر امریکی دباؤ اور فوجی مہم کے اعلانات کے بعد، رضا پہلوی کا یہ بیان کہ "ہم مل کر ایران کو واپس لیں گے اور اسے دوبارہ تعمیر کریں گے” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پسِ پردہ کسی بڑے آپریشن یا اقتدار کی منتقلی کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔
تہران کی حکومت نے تاحال اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ملک کے اندر سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر رضا پہلوی کو امریکی اور مغربی عسکری مدد کے ساتھ عوامی حمایت حاصل ہو گئی، تو ایران میں دہائیوں پرانا نظام ایک بڑے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔

