لاہور: (حافظ نعیم )حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں 16 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے ڈرائیونگ لائسنس اور پرمٹ جاری کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم عمر ڈرائیورز کو قانونی دائرہ کار میں لانا اور سڑکوں پر حادثات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
لائسنس کے حصول کی شرائط اور فیس
نئی پالیسی کے مطابق، پرمٹ یا لائسنس کے حصول کے لیے امیدوار کو درج ذیل طریقہ کار سے گزرنا ہوگا:
فیس: لائسنس یا پرمٹ کی فیس 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔
لازمی ٹیسٹ: لائسنس کے حصول کے لیے امیدوار کو روڈ ٹیسٹ اور ٹریفک سائن (اشاروں) کا ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہوگا۔
دستاویزات: پرمٹ بنوانے کے لیے امیدوار کو اپنے ‘ب فارم’ کے ساتھ والد یا سرپرست (گارڈین) کی اجازت کا اشٹام پیپر (حلف نامہ) لف کرنا ہوگا۔ سرپرست کی اجازت کے بغیر پرمٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔
گاڑی اور موٹر سائیکل کی حد (Limit)
کم عمر ڈرائیورز کی حفاظت کے پیشِ نظر انجن کی طاقت پر پابندی عائد کی گئی ہے:
16 سے 18 سال کے نوجوانوں کو 125 سی سی سے بڑی موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی طرح الیکٹرک بائیکس کے لیے بھی ایک مخصوص رفتار اور پاور کی حد مقرر کی گئی ہے، اس لمٹ سے اوپر کی ای بائیک چلانا غیر قانونی تصور ہوگا۔
لائسنس کی منسوخی اور تجدید
پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پرمٹ عارضی نوعیت کا ہوگا۔ جیسے ہی نوجوان کی عمر 18 سال مکمل ہوگی، یہ خصوصی لائسنس خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔ 18 سال مکمل ہونے پر شہری کو عام شہریوں کی طرح دوبارہ سے نیا مستقل ڈرائیونگ لائسنس بنوانا پڑے گا۔
ٹریفک پولیس کا پیغام
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان والدین کو ریلیف ملے گا جن کے بچے تعلیمی اداروں میں جانے کے لیے بائیک استعمال کرتے ہیں، تاہم والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مقررہ حد سے بڑی موٹر سائیکل ہرگز نہ دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
125 سی سی سے بڑی بائیک پر پابندی ، والد کا حلف نامہ لازمی: 16 سالہ کم عمر نوجوانوں کے لائسنس کا اجرا

