تحریر: رانا افضل رزاق ایڈووکیٹ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

اس آرڈیننس کے تحت زمین پر ناجائز قبضہ، جعلی دستاویزات کے ذریعے انتقالِ ملکیت، ریونیو ریکارڈ میں رد و بدل اور زبردستی بے دخلی کو سنگین فوجداری جرم قرار دیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر دس سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مزید برآں عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ متاثرہ مالک کو فوری قبضہ واپس دلائے اور مالی نقصان کا معاوضہ بھی ادا کرائے۔ خصوصی عدالتوں اور مقررہ مدت میں ٹرائل کی شق اس قانون کو مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔
اگر قانونی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ماضی میں ایسے مقدمات زیادہ تر Pakistan Penal Code کی دفعات 441 اور 447 کے تحت چلائے جاتے تھے، جہاں سزا محدود اور کارروائی طویل ہوتی تھی۔ اصل مالک کو قبضہ واگزاری کے لیے دیوانی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا تھا۔ دیوانی نظام میں ملکیت کا تحفظ بنیادی طور پر Transfer of Property Act 1882، Specific Relief Act 1877 اور Registration Act 1908 کے تحت فراہم کیا جاتا ہے، مگر مقدمات کی طوالت اور عملدرآمد کی پیچیدگی اکثر انصاف کو تاخیر کا شکار کر دیتی تھی۔
نیا آرڈیننس اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے۔ اس نے قبضہ کو محض دیوانی جھگڑا نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم کے طور پر دیکھا ہے۔ یہی اس قانون کی اصل انفرادیت ہے۔ سخت سزائیں اور بھاری جرمانہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ زمین پر قبضہ اب کمزور قانون کی آڑ میں نہیں چھپ سکے گا۔
تاہم، بطور وکیل یہ کہنا ضروری ہے کہ ہر سخت قانون کے ساتھ احتیاط بھی لازم ہے۔ زمین کے تنازعات اکثر وراثتی تقسیم، مشترکہ ملکیت یا خاندانی اختلافات سے جنم لیتے ہیں۔ اگر ہر معاملہ فوری طور پر فوجداری رنگ اختیار کر لے تو اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 شہری کو ملکیت رکھنے اور اس کے تحفظ کا حق دیتے ہیں، اس لیے کسی بھی کارروائی میں شفاف تفتیش اور عدالتی نگرانی ناگزیر ہے۔
عوام کے لیے رہنمائی یہی ہے کہ اپنی ملکیت کے کاغذات مکمل اور رجسٹرڈ رکھیں، ریونیو ریکارڈ کی تصدیق کرواتے رہیں، اور کسی بھی تنازع کی صورت میں قانونی مشاورت حاصل کریں۔ مضبوط دستاویز اور درست اندراج ہی سب سے بڑا دفاع ہے۔
یہ ترمیمی آرڈیننس بلاشبہ قبضہ مافیا کے خلاف ایک طاقتور قانونی ہتھیار ہے اور دیوانی و فوجداری نظام کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی۔ مگر اس کی کامیابی اس امر پر منحصر ہے کہ اسے غیر جانبدارانہ، شفاف اور مساوی انداز میں نافذ کیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پنجاب میں جائیداد کے تحفظ کا تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا؛ بصورتِ دیگر، یہ خود ایک نئے قانونی مباحثے کو جنم دے سکتا ہے۔
زمین صرف مٹی نہیں، یہ اعتماد اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ اس کا تحفظ ہی دراصل قانون کی ساکھ اور انصاف کی اصل کسوٹی ہے۔

