Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آئی ایم ایف سے قرض کی بھیک اور وزراء ،بیوروکریٹس کے لیے اربوں کی شاہ خرچیاں،پنجاب حکومت کا پرتعیش گاڑیوں کی خریداری کیلئے1 ارب 14 کروڑ مختص

      یو اے ای اور عراق کا ترکی تک ڈیٹا کیبل بچھانے کا اعلان

      پنجاب کے کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری: سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز-3 کا افتتاح، 10 ہزار نئے ٹریکٹرز کی قرعہ اندازی مکمل

      ایئر فورس ون کے رنگوں میں بڑی تبدیلی: 60 سالہ روایت ختم، اب صدارتی طیارہ سرخ، سفید اور نیلے رنگ میں چمکے گا

      نئے سولر صارفین کیلئے نیٹ بلنگ ، پہلے صارفین کیلئے نیٹ میٹرنگ برقرار رہے گی ، نیپرا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان کی مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات

      شمالی وزیرستان کی ‘ننھی سپن سٹار’ نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

      شیخ محمد بن زاید کی ہیلی کاپٹر اڑانے کی ویڈیو وائرل، تمام افواہیں دم توڑ گئیں

      پاکستان کا جدید ترین مواصلاتی سیٹلائٹ چین میں لانچنگ سائٹ کی طرف روانہ

      ماں تو ماں ہے ۔۔۔ ونٹر اولمپکس گولڈ میڈل جیتنے پر کم سن بیٹے نے دل جیت لئے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ملکیت کا دفاع یا طاقت کا استعمال؟ پنجاب میں نیا قانونی موڑ

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: رانا افضل رزاق ایڈووکیٹ
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پنجاب میں زمین پر ناجائز قبضہ برسوں سے ایک سنگین سماجی و قانونی مسئلہ رہا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے گھر یا زمین محض جائیداد نہیں بلکہ زندگی بھر کی محنت، عزت اور معاشی تحفظ کی علامت ہوتی ہے۔ جب یہی ملکیت طاقت، جعلسازی یا اثرورسوخ کے ذریعے چھین لی جائے تو مسئلہ صرف دیوانی تنازع نہیں رہتا بلکہ ریاستی عملداری پر سوال بن جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں حکومتِ پنجاب نے Punjab Protection of Ownership of Immovable Property (Amendment) Ordinance 2026 نافذ کیا ہے، جسے قبضہ مافیا کے خلاف ایک فیصلہ کن قانونی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
    اس آرڈیننس کے تحت زمین پر ناجائز قبضہ، جعلی دستاویزات کے ذریعے انتقالِ ملکیت، ریونیو ریکارڈ میں رد و بدل اور زبردستی بے دخلی کو سنگین فوجداری جرم قرار دیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر دس سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مزید برآں عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ متاثرہ مالک کو فوری قبضہ واپس دلائے اور مالی نقصان کا معاوضہ بھی ادا کرائے۔ خصوصی عدالتوں اور مقررہ مدت میں ٹرائل کی شق اس قانون کو مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔
    اگر قانونی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ماضی میں ایسے مقدمات زیادہ تر Pakistan Penal Code کی دفعات 441 اور 447 کے تحت چلائے جاتے تھے، جہاں سزا محدود اور کارروائی طویل ہوتی تھی۔ اصل مالک کو قبضہ واگزاری کے لیے دیوانی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا تھا۔ دیوانی نظام میں ملکیت کا تحفظ بنیادی طور پر Transfer of Property Act 1882، Specific Relief Act 1877 اور Registration Act 1908 کے تحت فراہم کیا جاتا ہے، مگر مقدمات کی طوالت اور عملدرآمد کی پیچیدگی اکثر انصاف کو تاخیر کا شکار کر دیتی تھی۔
    نیا آرڈیننس اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے۔ اس نے قبضہ کو محض دیوانی جھگڑا نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم کے طور پر دیکھا ہے۔ یہی اس قانون کی اصل انفرادیت ہے۔ سخت سزائیں اور بھاری جرمانہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ زمین پر قبضہ اب کمزور قانون کی آڑ میں نہیں چھپ سکے گا۔
    تاہم، بطور وکیل یہ کہنا ضروری ہے کہ ہر سخت قانون کے ساتھ احتیاط بھی لازم ہے۔ زمین کے تنازعات اکثر وراثتی تقسیم، مشترکہ ملکیت یا خاندانی اختلافات سے جنم لیتے ہیں۔ اگر ہر معاملہ فوری طور پر فوجداری رنگ اختیار کر لے تو اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 شہری کو ملکیت رکھنے اور اس کے تحفظ کا حق دیتے ہیں، اس لیے کسی بھی کارروائی میں شفاف تفتیش اور عدالتی نگرانی ناگزیر ہے۔
    عوام کے لیے رہنمائی یہی ہے کہ اپنی ملکیت کے کاغذات مکمل اور رجسٹرڈ رکھیں، ریونیو ریکارڈ کی تصدیق کرواتے رہیں، اور کسی بھی تنازع کی صورت میں قانونی مشاورت حاصل کریں۔ مضبوط دستاویز اور درست اندراج ہی سب سے بڑا دفاع ہے۔
    یہ ترمیمی آرڈیننس بلاشبہ قبضہ مافیا کے خلاف ایک طاقتور قانونی ہتھیار ہے اور دیوانی و فوجداری نظام کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی۔ مگر اس کی کامیابی اس امر پر منحصر ہے کہ اسے غیر جانبدارانہ، شفاف اور مساوی انداز میں نافذ کیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پنجاب میں جائیداد کے تحفظ کا تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا؛ بصورتِ دیگر، یہ خود ایک نئے قانونی مباحثے کو جنم دے سکتا ہے۔
    زمین صرف مٹی نہیں، یہ اعتماد اور مستقبل کی بنیاد ہے۔ اس کا تحفظ ہی دراصل قانون کی ساکھ اور انصاف کی اصل کسوٹی ہے۔

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی متعدد کامیاب کارروائیوں میں 34 دہشت گرد واصل جہنم

    بسنت پر مختلف حادثات میں 17 ہلاکتیں ہوئیں،پنجاب حکومت نے عدالت میں رپورٹ جمع کرادی

    عمران خان کی صحت پر فیصلہ پارٹی نہیں، فیملی کرے گی: علیمہ خان کا پی ٹی آئی قیادت کے خلاف "اعلانِ جنگ”

    مقبول خبریں

    بسنت پر مختلف حادثات میں 17 ہلاکتیں ہوئیں،پنجاب حکومت نے عدالت میں رپورٹ جمع کرادی

    بانی پی ٹی آئی کی شفا ہسپتال منتقلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر، اسلام آباد میں اپوزیشن کا بھرپور احتجاج

    داجل چیک پوسٹ حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا: آئی جی پنجاب اور فوجی حکام سمیت کثیر تعداد کی شرکت

    "عمر میں کیا رکھا ہے، دل جوان ہونا چاہیے”: 60 سالہ دلہا اور 23 سالہ دلہن کا ناقدین کو بھرپور جواب

    پنجاب میں سرکاری ملازمین کیلئے پنشن قوانین تبدیل

    بلاگ

    ملکیت کا دفاع یا طاقت کا استعمال؟ پنجاب میں نیا قانونی موڑ

    ”افغانستان میں پاک فضائیہ کی کارروائی کارروائی“ میاں حبیب کا کالم

    غیر قانونی قبضے کالعدم، شہری ملکیتی حقوق کو آئینی تحفظ

    پولیس اصلاحات: عملی احتساب یا محض کاغذی کارروائی؟

    ’’وکلاء انصاف کے متلاشی’’

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.