لاہور: پنجاب حکومت نے وزراء، بیوروکریٹس اور وی آئی پیز کی سفری سہولیات کے لیے رواں سال گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر خریداری کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، مجموعی طور پر 108 نئی گاڑیاں خریدی جائیں گی، جن پر قومی خزانے سے 1 ارب 14 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے۔
کابینہ کے اراکین کے لیے 30 کروڑ روپے کی لاگت سے 28 نئی گاڑیاں تجویز کی گئی ہیں، جن میں ایک پرتعیش لینڈ کروزر، دو ہیول 1.5، 5 گرینڈ الٹس، 10 ٹویوٹا الٹس اور 10 ٹویوٹا یارس شامل ہیں۔
دو وزراء کے لیے 4 کروڑ روپے مالیت کی 2 بلٹ پروف فور بائے فور (4×4) گاڑیوں کی خریداری کی اجازت حکومت پہلے ہی دے چکی ہے۔منصوبے میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کے لیے بھی بھاری رقم مختص کی گئی ہے۔وی آئی پیز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 27 کروڑ روپے کی لاگت سے 25 گاڑیوں کی سفارشات منظور کر لی گئی ہیں۔
سب سے بڑی خریداری سی ایم انسپکشن ٹیم کے لیے ہوگی، جس کے لیے 53 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس پیکج میں 30 ڈبل کیبن ڈالے، 11 یارس، 3 الٹس، سوزوکی کلٹس اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ ونگ کی ان سفارشات کی حتمی منظوری کے فوری بعد خریداری کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ ماہرینِ معیشت کی جانب سے اس منصوبے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف اسے انتظامی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے عوامی بجٹ پر بوجھ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے
آئی ایم ایف سے قرض کی بھیک اور وزراء ،بیوروکریٹس کے لیے اربوں کی شاہ خرچیاں،پنجاب حکومت کا پرتعیش گاڑیوں کی خریداری کیلئے1 ارب 14 کروڑ مختص

